خواجہ آصف کا افغانستان پر سخت مؤقف، کابل حکومت کو بھارت کی پراکسی قرار دے دیا

وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل حکومت بھارت کی پراکسی بنی ہوئی ہے، دہشتگردی نہ رکی تو پاکستان سخت جواب دے گا۔
(اسلام آباد)خواجہ آصف نے کہا ہے کہ کابل حکومت اس وقت بھارت کی پراکسی بنی ہوئی ہے اور اگر افغانستان نے دہشتگردوں کی پشت پناہی بند نہ کی تو کھلی جنگ کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ کابل پاکستان کے خلاف ہندوتوا کی جنگ لڑ رہا ہے اور اس وقت دہلی اور کابل کے مؤقف میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تین مختلف ممالک کے ذریعے دیانتداری سے کوششیں کیں اور 19، 19 گھنٹے مذاکرات بھی ہوئے، تاہم دہشتگردی کے معاملے پر کابل حکومت نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بھارت اب براہ راست جنگ کے بجائے افغانستان کے ذریعے پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ کابل حکومت پاکستان کو دہشتگردی نہ ہونے کی کوئی ضمانت دینے کیلئے تیار نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ پاکستان کی بقا کی جنگ ہے اور اسے صوبائی نہیں بلکہ قومی مسئلہ سمجھا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی قوتوں اور صوبوں کو اس معاملے پر ایک پیج پر آنا ہوگا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت کے ساتھ دہشتگردی کے معاملے پر تعاون جاری ہے، جبکہ پہلے ایسا تعاون موجود نہیں تھا۔
خواجہ آصف نے کہا کہ معرکۂ حق کی تقریب میں بعض سیاسی جماعتوں کو مدعو کیا گیا مگر وہ شریک نہیں ہوئیں، جبکہ پاک فوج کے جوان ملک بھر میں پاکستان کے دفاع کیلئے قربانیاں دے رہے ہیں۔
انہوں نے فاٹا سے متعلق مالی وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تمام صوبوں نے فنڈز میں حصہ ڈالنے پر اتفاق کیا تھا مگر اس پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوا، جبکہ وفاق کی ذمہ داری جزوی ہے اور اس مسئلے کا حل ناگزیر ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 مئی، 2026 کو 11:52 AM
آخری تدوین: 13 مئی، 2026



