بھارت میں کاکروچ تحریک کا بڑا احتجاج، نوجوان مودی سے استعفے کا مطالبہ لے کر دہلی پہنچ گئے

بھارت میں کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کی احتجاجی تحریک شدت اختیار کر گئی۔ ہزاروں نوجوان دہلی پہنچ گئے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پرچہ لیک اسکینڈل، سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور پارلیمان مارچ نے سیاسی کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے
نئی دہلی: بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی احتجاجی تحریک میں شدت آ گئی ہے، جہاں ہزاروں کارکن وزیراعظم نریندر مودی سے استعفے کا مطالبہ لے کر دہلی پہنچ گئے ہیں اور پارلیمان کی جانب مارچ کی تیاریاں جاری ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق پولیس کی جانب سے مختلف مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کیے جانے کے باوجود مظاہرین احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں اور وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ساتھ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔
چند ماہ قبل قائم ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبول ہوئی اور مختصر عرصے میں لاکھوں نوجوان اس تحریک سے وابستہ ہو گئے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس تحریک کا پارلیمان کی جانب مارچ وزیراعظم مودی کی حکومت کے لیے ایک اہم سیاسی امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔
تحریک کو اس وقت مزید تقویت ملی جب پولیس نے بھوک ہڑتال کرنے والے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کو زبردستی اسپتال منتقل کر دیا۔ اس واقعے کے بعد ان کے حامی بڑی تعداد میں دہلی کے جنتر منتر پر جمع ہوئے تاکہ پارلیمان کے اجلاس کے موقع پر احتجاجی مارچ میں شرکت کر سکیں۔
انتظامیہ نے جنتر منتر اور پارلیمان کے اطراف سخت سکیورٹی انتظامات کیے ہیں، جہاں پولیس کے علاوہ نیم فوجی دستے بھی تعینات کیے گئے ہیں۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر مظاہرین پارلیمان کی جانب پیش قدمی کرتے ہیں تو پولیس کے ساتھ تصادم کا امکان پیدا ہو سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
احتجاجی مظاہروں کے دوران شرکاء "مودی استعفیٰ دو" اور "دھرمیندر پردھان استعفیٰ دو" کے نعرے لگا رہے ہیں اور حکومت سے تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ تحریک مئی میں نیشنل میڈیکل کالج کے داخلہ امتحان کے پرچے لیک ہونے کے اسکینڈل کے بعد شروع ہوئی تھی، جس سے 20 لاکھ سے زائد طلبہ متاثر ہوئے اور انہیں دوبارہ امتحان دینا پڑا۔
میرٹھ سے تعلق رکھنے والے 21 سالہ طالب علم آدی ناتھن نے کہا کہ وہ اس لیے احتجاج میں شریک ہوئے ہیں تاکہ مستقبل میں پرچے لیک ہونے جیسے واقعات کا خاتمہ کیا جا سکے اور طلبہ کے ساتھ ناانصافی نہ ہو۔
کاکروچ جنتا پارٹی کو ابتدا میں سوشل میڈیا پر غیر معمولی پذیرائی ملی، جہاں چند ہی دنوں میں اس کے فالوورز کی تعداد دو کروڑ 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ بعد ازاں تحریک کو بعض اپوزیشن جماعتوں کی حمایت بھی حاصل ہوئی۔
پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے گزشتہ ماہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دھرنا شروع کیا تھا، جبکہ 28 جون کو سماجی کارکن سونم وانگچک بھی اس احتجاج میں شامل ہوئے اور غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔
سونم وانگچک نے اپنے ہاتھ سے تحریر کردہ پیغام میں کہا کہ وہ اس وقت تک بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک حکومت تعلیمی نظام میں سامنے آنے والی خامیوں اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات کی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 20 جولائی، 2026 کو 06:32 AM
آخری تدوین: 20 جولائی، 2026



