زیلنسکی کا یوکرینی فوج کو روس پر روزانہ ایک ہزار ڈرون حملوں کا ہدف مقرر کرنے کا حکم

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے فوج کو روس کے خلاف طویل فاصلے تک ڈرون حملوں میں اضافہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے روزانہ کم از کم ایک ہزار ڈرون حملوں کا ہدف مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ زیلنسکی نے امریکی انٹیلی جنس سربراہ کے مبینہ دورۂ ماسکو اور روسی حکام سے ملاقاتوں کا بھی ذکر کیا
کیف: یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اپنی فوج کو روس کے خلاف طویل فاصلے تک ڈرون حملوں میں نمایاں اضافہ کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے روزانہ کم از کم ایک ہزار ڈرون حملوں کا ہدف مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یوکرینی صدر نے جمعہ کی شام اپنے خطاب میں کہا کہ یوکرینی فوج روس کے خلاف روزانہ کم از کم ایک ہزار ڈرون حملے کرے۔ ان کے مطابق یہ تعداد موجودہ اندازے کے مطابق روزانہ تقریباً 300 ڈرون حملوں سے تین گنا سے بھی زیادہ ہے۔
زیلنسکی نے فوجی حکام پر زور دیا کہ روس کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کی صلاحیت میں مزید اضافہ کیا جائے۔
انہوں نے کہا، ’’ایک واضح ہدف مقرر ہے اور ہم یہ کام مکمل کریں گے۔‘‘
یوکرینی صدر نے ٹیلی گرام پر جاری ایک پوسٹ میں امریکی انٹیلی جنس سربراہ کے مبینہ دورۂ ماسکو اور روسی حکام سے ملاقاتوں سے متعلق رپورٹس کا بھی ذکر کیا۔
زیلنسکی کے مطابق کیف کو امریکی حکام کی جانب سے ماسکو میں حالیہ دنوں ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں معلومات موصول ہوئی ہیں، تاہم انہوں نے ان ملاقاتوں کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
دوسری جانب روسی صدارتی محل کریملن نے تصدیق کی ہے کہ امریکی انٹیلی جنس سربراہ نے ماسکو میں روسی انٹیلی جنس حکام سے ملاقات کی۔ تاہم روسی حکام کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سربراہ کی روسی صدر سے کسی قسم کی ملاقات نہیں ہوئی۔
زیلنسکی کے تازہ بیان کو روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ میں ڈرون ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ یوکرین طویل فاصلے تک حملہ کرنے کی اپنی صلاحیت میں مسلسل اضافے پر زور دے رہا ہے۔
شائع ہوا: 29 اگست، 2026 کو 10:36 AM
آخری تدوین: 29 اگست، 2026



