امریکا و اسرائیل کے ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات پر حملے

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں خطرناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی اہم پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جبکہ ایران نے ملٹی وار ہیڈ میزائلوں سے بھرپور جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
(ایران) اطلاعات کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں ایران کی پیٹروکیمیکل تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جس کے نتیجے میں کم از کم 5 افراد شہید جبکہ 170 سے زائد زخمی ہو گئے۔ حکام کے مطابق زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق حملوں میں ایران کا ایک مشہور اسپورٹس اسٹیڈیم بھی تباہ ہو گیا، جسے ایران کا شاہکار اسٹیڈیم قرار دیا جاتا تھا۔ اس اسٹیڈیم میں ماضی میں کئی تاریخی اور بین الاقوامی مقابلے منعقد ہو چکے تھے، تاہم حملے کے بعد اس مقام پر ہر طرف تباہی کے مناظر دیکھنے میں آ رہے ہیں۔
دوسری جانب ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ ترجمان کے مطابق جوابی حملوں کی 95ویں لہر کے دوران خطے میں متعدد اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
ایرانی حکام کے مطابق کارروائی میں جدید میزائل سسٹمز "حاج قاسم"، "خیبر شکن" اور "قدر" استعمال کیے گئے، جنہیں ملٹی وار ہیڈ ٹیکنالوجی سے لیس بتایا جا رہا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین میں تعینات امریکی پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ کویت میں موجود امریکی ہائی مارز راکٹ بیٹریاں بھی تباہ کر دی گئیں۔
ایرانی بیان کے مطابق متحدہ عرب امارات میں امریکی فوج کے ہائی مارز لانچر یونٹس، کمانڈ سینٹر اور تربیتی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یو اے ای میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی اوریکل کی تنصیبات کو بھی میزائل حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
تاحال امریکا، اسرائیل یا خلیجی ممالک کی جانب سے ان دعوؤں کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
علاقائی صورتحال پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 5 اپریل، 2026 کو 04:35 AM
آخری تدوین: 5 اپریل، 2026



