سلمان اکرم راجہ 4 گھنٹے حراست میں رہنے کے بعد رہا، اعجاز ستی کے جنازے میں شرکت سے روکنے کا دعویٰ


پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے انہیں لطاسب ستی، اخلاق ستی اور دیگر ساتھیوں سمیت 4 گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ سلمان اکرم راجہ کے مطابق انہیں اعجاز ستی مرحوم کے جنازے میں شرکت سے روکنے کے لیے حراست میں رکھا گیا تھا۔ بیرسٹر گوہر نے بھی سلمان اکرم راجہ کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ پولیس نے انہیں ساتھیوں سمیت تقریباً 4 گھنٹے حبسِ بے جا میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔
سلمان اکرم راجہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں، لطاسب ستی، اخلاق ستی اور متعدد ساتھیوں کو چار گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کیا گیا۔
پی ٹی آئی سیکریٹری جنرل کے مطابق انہیں حراست میں رکھنے کا مقصد صرف اعجاز ستی مرحوم کے جنازے میں شرکت سے روکنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے خوف نے فیصلہ سازوں سے عقل و فہم چھین لیا ہے اور انسانی حقوق بے معنی ہو چکے ہیں۔
سلمان اکرم راجہ نے اپنے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرنے والے ساتھیوں کا بھی شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا تھا کہ انہیں وکیل شوکت بسرا نے اطلاع دی کہ سلمان اکرم راجہ کو پولیس نے گزشتہ دو گھنٹوں سے تھانے میں حراست میں رکھا ہوا ہے۔
بیرسٹر گوہر نے سلمان اکرم راجہ کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گزشتہ چند روز کے دوران تقریباً 700 کارکن گرفتار کیے جا چکے ہیں جبکہ ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
انہوں نے ان اقدامات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سلسلہ فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔

شائع ہوا: 17 ستمبر، 2026 کو 02:04 PM
آخری تدوین: 17 ستمبر، 2026



