کینیڈا میں ایئر انڈیا دھماکوں میں بھارتی حکومت ملوث نکلی

سکھ فار جسٹس کی ائر انڈیا کے خلاف احتجاج کی کال، 1985 کانیشکا بم دھماکے پر نئے الزامات سامنے آگئے
(نیو یارک) کینیڈا میں سرگرم خالصتان حامی تنظیم سکھ فار جسٹس (SFJ) نے ایئر انڈیا کی پروازوں کے خلاف احتجاج اور آپریشنز بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ 1985 کے کانیشکا طیارہ بم دھماکے سے متعلق نئے متنازع دعوے بھی سامنے آئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق اہلکار جاں کیریاکو کے ایک بیان کے بعد یہ معاملہ دوبارہ بحث میں آ گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ “انڈیا نے ایک بوئنگ 747 کو بم دھماکے سے اڑایا تھاا”
یہ سانحہ کینیڈا کی تاریخ کا بدترین فضائی حملہ تھا، جس میں 329 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں اکثریت کینیڈین شہریوں کی تھی۔
تنظیم کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چار دہائیوں سے اس واقعے کی ذمہ داری خالصتان حامی عناصر پر ڈالی جاتی رہی، تاہم نئے بیانات نے معاملے کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس واقعے میں بھارتی حکومت کے کردار کو مکمل طور پر بے نقاب نہیں کیا گیا۔
سکھ فار جسٹس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایئر انڈیا کی کینیڈا میں جاری پروازیں اس سانحے کی یاد کو دبانے اور ذمہ داری سے بچنے کے مترادف ہیں، لہٰذا انہیں بند کیا جانا چاہیے۔
تنظیم نے 12 اپریل 2026 کو ایئر انڈیا کی پرواز AI-186 (وینکوور سے دہلی) کے خلاف احتجاج کی بھی کال دی ہے، جس کا مقصد اس معاملے پر توجہ مبذول کرانا ہے۔
ماضی میں سرکاری تحقیقات اور رپورٹس میں اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند عناصر پر عائد کی جاتی رہی ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 7 اپریل، 2026 کو 08:16 PM
آخری تدوین: 7 اپریل، 2026



