ایران امریکا مذاکرات کا پہلا دور آج، اسٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ

امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت کے بعد مذاکرات کا پہلا دور آج سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔ امریکی نمائندہ اسٹیو وٹکوف روانہ ہو گئے جبکہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی بھی آمد متوقع ہے
(واشنگٹن) امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد مذاکرات کا پہلا دور آج سوئٹزرلینڈ میں متوقع ہے۔ اس سلسلے میں امریکا کے خصوصی نمائندے اسٹیو وٹکوف سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں جبکہ جیرڈ کشنر پہلے ہی مذاکراتی مقام برگن اسٹاک میں موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس حکام کے مطابق اسٹیو وٹکوف ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں امریکی وفد کی نمائندگی کریں گے۔ اگرچہ مذاکرات کی حتمی تاریخ اور وقت کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، تاہم سفارتی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ آمد متوقع ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بھی آج سوئٹزرلینڈ پہنچنے کا منصوبہ ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے کہ مذاکراتی عمل کے لیے لبنان میں جنگ بندی کا نفاذ ضروری ہے۔
ایران کا مؤقف ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے آغاز سے قبل اسرائیل اور لبنان کے درمیان مؤثر جنگ بندی ہونی چاہیے۔ یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور گزشتہ جمعہ کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے یہ مذاکرات مختلف ثالث ممالک کی موجودگی میں ہوں گے۔ فریقین کے درمیان 60 روزہ مدت طے کی گئی ہے جس کے دوران ایک جامع اور حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جائے گی۔
مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، افزودہ یورینیم کی سطح، اقتصادی پابندیوں میں نرمی، مالی معاملات اور دیگر تکنیکی امور پر تفصیلی بات چیت متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ کی آئندہ سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آئندہ ہفتے مشرق وسطیٰ کے اہم دورے پر روانہ ہوں گے۔ اپنے دورے کے دوران وہ متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین کا دورہ کریں گے جہاں خطے کی سکیورٹی صورتحال، ایران سے متعلق پیش رفت اور علاقائی استحکام کے امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے یہ مذاکرات امریکا اور ایران کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان کی کامیابی کا انحصار خطے میں امن و استحکام اور فریقین کے اعتماد سازی کے اقدامات پر ہوگا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 20 جون، 2026 کو 09:13 AM
آخری تدوین: 20 جون، 2026



