عمران خان مبینہ ’رہائی فورس‘ کیس: آئینی عدالت نے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی

وفاقی آئینی عدالت نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی مبینہ "رہائی فورس" سے متعلق درخواست کی سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دے دی
اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کی مبینہ "رہائی فورس" سے متعلق دائر آئینی درخواست کی سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کرتے ہوئے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دے دی۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں وفاقی آئینی عدالت کے تین رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت پی ٹی آئی رہنماؤں کے وکیل علی بخاری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی اور دیگر کی جانب سے وکالت نامہ اور جواب جمع کرانے کے لیے عدالت سے مہلت طلب کی۔
علی بخاری نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس مقدمے میں سہیل آفریدی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کی بھی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق انہیں آج صبح ہی سلمان اکرم راجہ کی وکالت سے متعلق آگاہ کیا گیا، اس لیے جواب تیار کرنے اور جمع کرانے کے لیے مزید وقت درکار ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ایک سیاسی نوعیت کا مقدمہ ہے، اس لیے پارٹی کے سیکریٹری جنرل کو جواب جمع کرانے کے لیے مناسب مہلت دی جانی چاہیے۔
سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ آئینی درخواست میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا ایک نجی ملیشیا تشکیل دے رہے ہیں۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اب تک صرف ایک فریق نے اپنا جواب جمع کرایا ہے۔ انہوں نے استدعا کی کہ امن و امان کی صورتحال خراب نہ کرنے سے متعلق عدالت کے سابقہ حکم نامے میں توسیع کی جائے۔
اس پر چیف جسٹس امین الدین خان نے ریمارکس دیے کہ اس کی ضرورت نہیں، کیونکہ عدالت کا سابقہ حکم صرف سماعت کی تاریخ تک محدود نہیں تھا، لہٰذا اس میں توسیع کی ضرورت نہیں۔
بعد ازاں وفاقی آئینی عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مہلت دیتے ہوئے کیس کی مزید سماعت گرمیوں کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 28 جولائی، 2026 کو 06:32 AM
آخری تدوین: 28 جولائی، 2026



