بیروت پر اسرائیلی حملے: ٹرمپ نے معاہدے پر دستخط کی تقریب چند گھنٹوں کیلئے مؤخر کردی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ بیروت کے جنوبی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان متوقع امن معاہدے پر دستخط کی تقریب کو چند گھنٹوں کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق خطے میں اچانک پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث فریقین نے مزید مشاورت کا فیصلہ کیا ہے
امریکی میڈیا سے ٹیلیفونک گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب طے شدہ وقت پر منعقد ہونا تھی، تاہم بیروت میں پیش آنے والے واقعے کے بعد اس عمل کو وقتی طور پر روک دیا گیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ چند گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کے بعد دستخطی تقریب منعقد ہو جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان زیر غور معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے اور امن کی نئی راہ ہموار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔
اس سے قبل سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے بیروت پر اسرائیلی حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حساس سفارتی مرحلے میں ایسی کارروائیاں خطے میں امن کی کوششوں کو متاثر کر سکتی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کو اپنی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے، تاہم ایسے اقدامات سے گریز کیا جانا چاہیے جو مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچائیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام فریقین، بشمول اسرائیل اور حزب اللہ، پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور مزید کشیدگی سے اجتناب کریں تاکہ ایک دیرپا اور جامع امن معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر الیکٹرانک دستخط کیے جانے کا امکان برقرار ہے، تاہم حتمی اعلان دونوں ممالک کی باہمی مشاورت اور خطے کی سیکیورٹی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں ہونے والے اسرائیلی فضائی حملے میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق دو افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہوئے، جس کے بعد عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 14 جون، 2026 کو 05:28 PM
آخری تدوین: 14 جون، 2026



