وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کا بڑا بیان: ایران کے حملے سے جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جوہری معاہدے پر بھی اہم اشارے

W
Web Desk
5 جون، 2026
ٹرمپ کا بڑا بیان: ایران کے حملے سے جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے، جوہری معاہدے پر بھی اہم اشارے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران، جوہری معاہدے، آبنائے ہرمز، لبنان اور روس یوکرین جنگ سے متعلق اہم بیانات جاری کر دیے۔ ٹرمپ کے مطابق ایران کی جانب سے امریکی فوج پر حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا سبب بن سکتا ہے جبکہ ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے پر بھی اہم پیش رفت متوقع ہے

(واشنگٹن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی، جوہری پروگرام اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اہم بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے امریکی فوج پر براہ راست حملہ جنگ کے دوبارہ آغاز کا جواز بن سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ جوہری معاہدے کے تحت تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے کی صورت میں آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کو استحکام مل سکتا ہے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ وہ اس وقت ایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات کے خواہاں نہیں، تاہم اگر دونوں ممالک کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایسی ملاقات ممکن ہو سکتی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے کی تفصیلات جلد سامنے آ جائیں گی۔

لبنان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں امن کا قیام لبنان کے مفاد میں ہے اور وہاں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ سے بھی لبنان کی صورتحال کے حوالے سے گفتگو ہوئی ہے۔

روس اور یوکرین جنگ کے بارے میں امریکی صدر نے کہا کہ تنازع کے حل کیلئے مصالحتی کوششیں ناگزیر ہیں۔ ان کے مطابق اگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی براہ راست ملاقات کریں تو یہ امن کی جانب ایک مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اپنے قریبی مشیروں کو واضح کر چکے ہیں کہ وہ ایران کے ساتھ موجودہ جنگ بندی کو ختم کرنے کے خواہاں نہیں، جب تک کہ ایران براہ راست امریکی فوجیوں کو نشانہ نہ بنائے۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطیٰ میں ایک وسیع علاقائی جنگ سے گریز کرنا چاہتی ہے اور محدود نوعیت کی کشیدگی کو برداشت کرنے پر آمادہ دکھائی دیتی ہے تاکہ خطے میں بڑے پیمانے پر تصادم سے بچا جا سکے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 5 جون، 2026 کو 03:56 AM

آخری تدوین: 6 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکا کا نیا ویزا قانون، 50 ممالک کے شہریوں کیلئے 20 ہزار ڈالر تک ضمانتی بانڈ لازمی
امریکا

امریکا کا نیا ویزا قانون، 50 ممالک کے شہریوں کیلئے 20 ہزار ڈالر تک ضمانتی بانڈ لازمی

امریکا نے ویزا قوانین مزید سخت کرتے ہوئے 50 ممالک کے شہریوں کیلئے 20 ہزار ڈالر تک ضمانتی بانڈ کی نئی شرط عائد کر دی۔ نیا قانون 3 اگست سے نافذ ہوگا اور B-1 و B-2 ویزا درخواست گزار اس سے متاثر ہوں گے

Web Desk2 اگست، 2026
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا نے شہریوں کو انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی
امریکا

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی، امریکا نے شہریوں کو انخلا کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی

امریکا نے کویت، سعودی عرب، قطر، بحرین، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کو بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے باعث انخلا پر غور کرنے یا فوری روانگی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت جاری کر دی

Web Desk2 اگست، 2026
ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کر دیا، معاہدے کی امید ظاہر
تازہ ترین

ٹرمپ نے ایران پر مجوزہ حملہ مؤخر کر دیا، معاہدے کی امید ظاہر

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران پر مجوزہ حملہ فی الحال مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے ساتھ جلد معاہدہ ہو گیا تو فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی

Web Desk2 اگست، 2026