وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی کامیابیاں، 2026 مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی میں طاقت کا مظاہرہ

ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں کی بڑی کامیابیاں، 2026 مڈٹرم انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی میں طاقت کا مظاہرہ

امریکہ میں 2026 مڈٹرم انتخابات سے قبل ہونے والے پرائمری انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے انڈیانا، کینٹکی، جارجیا اور ٹیکساس میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر لیں، جس سے ریپبلکن پارٹی پر ٹرمپ کے اثر و رسوخ کی نئی بحث چھڑ گئی

( واشنگٹن ڈی سی )امریکہ میں 2026 کے مڈٹرم انتخابات سے قبل ہونے والے ریپبلکن پرائمری انتخابات میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدواروں نے کئی اہم کامیابیاں حاصل کر کے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ان نتائج سے واضح ہوتا ہے کہ ریپبلکن پارٹی پر اب بھی ٹرمپ کا مضبوط اثر و رسوخ قائم ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ریاست انڈیانا، کینٹکی، جارجیا اور ٹیکساس سمیت مختلف ریاستوں میں ٹرمپ کی حمایت یافتہ شخصیات نے نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ ان انتخابات کو 2026 کے مڈٹرم انتخابات کے تناظر میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

ریاست کینٹکی میں ٹرمپ کے حمایت یافتہ امیدوار ایڈ گیلرین نے ریپبلکن پرائمری میں کانگریس مین تھامس میسی کو شکست دے دی۔ تھامس میسی نے بعض اہم معاملات پر ٹرمپ سے اختلاف کیا تھا، جس کے بعد سابق صدر نے ان کے خلاف بھرپور سیاسی مہم چلائی۔

اسی طرح ریاست ٹیکساس میں ٹرمپ نے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کی حمایت کا اعلان کیا، جو موجودہ سینیٹر جان کارنن کے مقابلے میں انتخابی میدان میں موجود ہیں۔ سیاسی ماہرین کے مطابق یہ حمایت ریپبلکن پارٹی کے اندر ایک واضح سیاسی پیغام تصور کی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ نتائج نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ریپبلکن امیدواروں کے لیے ٹرمپ کی حمایت اب بھی انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔ کئی کامیاب امیدواروں نے اپنی انتخابی مہم میں “امریکہ فرسٹ” پالیسی، سخت امیگریشن قوانین اور قدامت پسند مؤقف کو نمایاں رکھا۔

دوسری جانب ڈیموکریٹک پارٹی بھی 2026 کے مڈٹرم انتخابات کی بھرپور تیاری کر رہی ہے۔ ریاست پنسلوانیا میں گورنروش شاپیرو کی حمایت یافتہ امیدواروں نے اہم نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ آئندہ انتخابات میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق 2026 کے مڈٹرم انتخابات نہ صرف امریکی کانگریس کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ آیا ڈونلڈ ٹرمپ آنے والے صدارتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی کے سب سے بااثر رہنما کے طور پر اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہتے ہیں یا نہیں۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 20 مئی، 2026 کو 04:29 AM

آخری تدوین: 20 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کا نیوز ویک میں مضمون، سندھ طاس معاہدے پر بھارتی الزامات مسترد
تازہ ترین

سفیر پاکستان رضوان سعید شیخ کا نیوز ویک میں مضمون، سندھ طاس معاہدے پر بھارتی الزامات مسترد

پاکستانی سفیر رضوان سعید شیخ نے امریکی جریدے نیوز ویک میں مضمون لکھ کر سندھ طاس معاہدے سے متعلق بھارتی الزامات کی تردید کردی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ بدستور مؤثر اور قانونی طور پر نافذ العمل ہے، یکطرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں جبکہ بھارتی اقدامات جنوبی ایشیا کے امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں

Web Desk29 اگست، 2026
ٹرمپ کا وینزویلا کے ساتھ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے تیل معاہدے کا اعلان، 65 ارب بیرل ذخائر پر اکثریتی کنٹرول کا دعویٰ
امریکا

ٹرمپ کا وینزویلا کے ساتھ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے تیل معاہدے کا اعلان، 65 ارب بیرل ذخائر پر اکثریتی کنٹرول کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ دنیا کی تاریخ کے سب سے بڑے تیل معاہدے کا اعلان کر دیا۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدے کے تحت 65 ارب بیرل سے زائد تیل کے ذخائر پر اکثریتی کنٹرول حاصل کیا گیا، جبکہ وینزویلا کی تیل صنعت میں 100 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری اور 17 اہم تیل شعبوں کی ترقی کا منصوبہ بھی سامنے آیا ہے

Web Desk29 اگست، 2026
ٹرمپ کا نہر اونٹاریو کا نام بدل کر ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم
امریکا

ٹرمپ کا نہر اونٹاریو کا نام بدل کر ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم دے دیا۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور نیویارک کی گورنر کا سخت ردعمل

Web Desk28 اگست، 2026