ٹرمپ کا نہر اونٹاریو کا نام بدل کر ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم دے دیا۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور نیویارک کی گورنر کا سخت ردعمل
واشنگٹن: امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نام کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج میکسیکو اور نہر کا نام تبدیل کیا جا چکا ہے، اب صرف سمندر کا نام تبدیل کرنا باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے مستقبل میں بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے نام بھی تبدیل کر دیے جائیں۔

کینیڈین وزیراعظم کا ٹرمپ کے فیصلے پر سخت ردعمل
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر کے اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہر اونٹاریو کا نام امریکا اور کینیڈا کی موجودہ ریاستی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔
مارک کارنی نے واضح کیا کہ نہر اونٹاریو ہمیشہ نہر اونٹاریو ہی رہے گی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا امریکی صدر کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔
نہر اونٹاریو کی جغرافیائی اہمیت
واضح رہے کہ نہر اونٹاریو کا تقریباً 52 فیصد حصہ کینیڈا جبکہ باقی حصہ امریکی ریاست نیویارک میں واقع ہے۔ یہ نہر دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم آبی گزرگاہ بھی سمجھی جاتی ہے اور اس کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت ہے۔
ادھر نیویارک کی ڈیموکریٹک گورنر کیتھی ہوکل نے بھی صدر ٹرمپ کے حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہر اونٹاریو کا تقریباً 400 سال پرانا نام تبدیل نہیں کریں گی۔
امریکا اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
صدر ٹرمپ کی جانب سے نہر کا نام تبدیل کرنے کا اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی پالیسی، محصولات اور سرحدی معاملات پر اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی نے طویل عرصے سے قائم قریبی تعلقات اور تجارتی شراکت داری پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تجارتی پالیسیوں اور سرحدی معاملات پر اختلافات کے باعث واشنگٹن اور اوٹاوا کے تعلقات مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
شائع ہوا: 28 اگست، 2026 کو 05:14 AM
آخری تدوین: 28 اگست، 2026



