وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کا نہر اونٹاریو کا نام بدل کر ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم

W
Web Desk
28 اگست، 2026
ٹرمپ کا نہر اونٹاریو کا نام بدل کر ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کا حکم دے دیا۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی اور نیویارک کی گورنر کا سخت ردعمل

واشنگٹن: امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہر اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’نہر امریکا‘‘ رکھنے کے حکم نامے پر دستخط کر دیے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نام کی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خلیج میکسیکو اور نہر کا نام تبدیل کیا جا چکا ہے، اب صرف سمندر کا نام تبدیل کرنا باقی رہ گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ممکن ہے مستقبل میں بحر اوقیانوس اور بحرالکاہل کے نام بھی تبدیل کر دیے جائیں۔

کینیڈین وزیراعظم کا ٹرمپ کے فیصلے پر سخت ردعمل

کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے امریکی صدر کے اقدام پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نہر اونٹاریو کا نام امریکا اور کینیڈا کی موجودہ ریاستی تاریخ سے بھی پرانا ہے۔

مارک کارنی نے واضح کیا کہ نہر اونٹاریو ہمیشہ نہر اونٹاریو ہی رہے گی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کینیڈا امریکی صدر کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

نہر اونٹاریو کی جغرافیائی اہمیت

واضح رہے کہ نہر اونٹاریو کا تقریباً 52 فیصد حصہ کینیڈا جبکہ باقی حصہ امریکی ریاست نیویارک میں واقع ہے۔ یہ نہر دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم آبی گزرگاہ بھی سمجھی جاتی ہے اور اس کی تاریخی و جغرافیائی اہمیت ہے۔

ادھر نیویارک کی ڈیموکریٹک گورنر کیتھی ہوکل نے بھی صدر ٹرمپ کے حکم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ نہر اونٹاریو کا تقریباً 400 سال پرانا نام تبدیل نہیں کریں گی۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان کشیدگی میں اضافہ

صدر ٹرمپ کی جانب سے نہر کا نام تبدیل کرنے کا اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی پالیسی، محصولات اور سرحدی معاملات پر اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی نے طویل عرصے سے قائم قریبی تعلقات اور تجارتی شراکت داری پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تجارتی پالیسیوں اور سرحدی معاملات پر اختلافات کے باعث واشنگٹن اور اوٹاوا کے تعلقات مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 28 اگست، 2026 کو 05:14 AM

آخری تدوین: 28 اگست، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی اشتہارات پر پابندی کا حکم
امریکا

امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی اشتہارات پر پابندی کا حکم

امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے متنازع سرکاری اشتہارات تیار اور نشر کرنے سے دو ہفتوں کے لیے روک دیا۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں آیا

محمد نعیم اختر12 اکتوبر، 2026
ٹرمپ انتظامیہ کی پانچ بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات
تازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کی پانچ بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات

امریکی محکمۂ انصاف نے ABC، CBS، CNN، NBC اور فاکس نیوز کے خلاف مبینہ طور پر مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کر دیں۔ معاملے نے امریکا میں آزادیٔ صحافت، حکومتی احتساب اور آئینی حقوق سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی

محمد نعیم اختر11 اکتوبر، 2026
سعودی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی میں ساتھ دینے کا عندیہ
امریکا

سعودی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی میں ساتھ دینے کا عندیہ

سعودی عرب کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اشارہ دے دیا۔ ایران پر ممکنہ حملوں سے متعلق بھی اہم بیان سامنے آگیا

Web Desk11 اکتوبر، 2026