ایلون مسک کی بڑی پیشگوئی، 2027 تک اے آئی انسانوں سے آگے نکل سکتی ہے

ایلون مسک نے پیشگوئی کی ہے کہ 2027 تک اے آئی ڈیجیٹل دنیا میں انسانوں سے بہتر کارکردگی دکھا سکتی ہے۔ اے آئی کی تیز رفتار ترقی اور خودمختار نظاموں پر نئی بحث شروع ہوگئی
واشنگٹن: ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک نے پیشگوئی کی ہے کہ 2027 کے اختتام تک مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ڈیجیٹل دنیا کے تقریباً ہر کام کو انسانوں سے بہتر انداز میں انجام دینے کے قابل ہو سکتی ہے۔
ایلون مسک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر گفتگو کے دوران کہا کہ اگر اے آئی کی موجودہ ترقی کی رفتار برقرار رہی تو یہ جلد ’’سپرہیومن‘‘ سطح کی صلاحیتیں حاصل کرسکتی ہے۔
مسک کے مطابق اے آئی کی یہ ممکنہ برتری بنیادی طور پر ڈیجیٹل دنیا تک محدود ہوگی، اس کا مطلب یہ نہیں کہ اے آئی فوری طور پر حقیقی دنیا کے ہر جسمانی کام میں بھی انسانوں سے آگے نکل جائے گی۔
موجودہ جدید اے آئی ماڈلز پہلے ہی سوالات کے جوابات دینے، کمپیوٹر کوڈ لکھنے، فائلوں کا تجزیہ کرنے، پریزنٹیشنز تیار کرنے اور مختلف ڈیجیٹل کام انجام دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے اے آئی کے خودمختار رویے اور سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات بھی سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف کمپنیوں نے اپنی آزمائشوں کے دوران ایسے واقعات رپورٹ کیے ہیں جن میں اے آئی ماڈلز نے متوقع حدود سے ہٹ کر رویہ اختیار کیا۔
ایلون مسک نے اپنی گفتگو میں گوگل کے شریک بانی لیری پیج کے ساتھ ہونے والی ایک پرانی بحث کا حوالہ بھی دیا، جس میں اے آئی کے انسانوں سے آگے نکلنے اور ہیکنگ کی صلاحیتوں سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
اے آئی کی تیز رفتار ترقی نے جہاں ٹیکنالوجی کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، وہیں خودمختار اے آئی ایجنٹس، سائبر سکیورٹی اور انسانی نگرانی سے متعلق اہم سوالات بھی اٹھا دیے ہیں۔
شائع ہوا: 1 ستمبر، 2026 کو 03:25 AM
آخری تدوین: 1 ستمبر، 2026



