پاکستان کی قیادت میں اقوامِ متحدہ میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کی عالمی مہم
محمد نعیم اختر
حکومتِ پاکستان نے وزیراعظم پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کا آغاز کیا ہے، جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے تعاون سے 25 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کو صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بننے سے روکنا ہے
( نیو یارک ) اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن اور ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے لیے قائم اقوامِ متحدہ کے گروپ آف فرینڈز کے سیکریٹریٹ نے مشترکہ طور پر ایک اہم سفارتی بریفنگ اور مشاورتی اجلاس کا انعقاد کیا

پاکستان مشن میں منعقدہ اس اعلیٰ سطحی تقریب میں وزارتِ صحت کے نمائندگان، اقوامِ متحدہ کے سفارت کاروں اور عالمی صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس میں وائرل ہیپاٹائٹس پر تبادلۂ خیال کیا گیا جو دنیا کی مہلک ترین دائمی بیماریوں میں شامل ہے اور ہر سال تقریباً 13 لاکھ انسانی جانیں لے لیتی ہے۔ اس موقع پر مختلف خطوں پر مشتمل ایک سیاسی روڈ میپ پر اتفاقِ رائے پیدا ہوا جس کا مقصد 2028 تک وائرل ہیپاٹائٹس پر اقوامِ متحدہ کے ایک باضابطہ اور علیحدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد کی راہ ہموار کرنا ہے

اجلاس کا آغاز اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون کے افتتاحی کلمات سے ہوا، جس کے بعد ڈاکٹر جان وارڈ، ڈائریکٹر، کولیشن فار گلوبل ہیپاٹائٹس ایلیمینیشن، نے وائرل ہیپاٹائٹس کے عالمی بوجھ، حالیہ سیاسی پیش رفت اور اس کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے امکانات پر تفصیلی بریفنگ دی

پاکستانی حکومت کی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے وزیراعظم پروگرام برائے انسداد ہیپاٹائٹس سی کا آغاز کیا ہے، جس کے لیے عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے تعاون سے 25 کروڑ امریکی ڈالر مختص کیے گئے ہیں۔ اس پروگرام کا مقصد 2030 تک ہیپاٹائٹس سی کو صحتِ عامہ کے لیے خطرہ بننے سے روکنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت اسکریننگ، تشخیص اور علاج کی سہولیات مکمل طور پر مفت فراہم کی جا رہی ہیں

انہوں نے کہا:"موثر نگرانی اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے خود وزیرِاعظم قومی ٹاسک فورس کی قیادت کر رہے ہیں، جو پروگرام کی پیش رفت کی نگرانی اور اس کے لیے تزویراتی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔"
سفیر جدون نے مزید کہا کہ قومی ٹاسک فورس بین الاقوامی اور قومی ماہرین کے ایک ممتاز گروپ پر مشتمل ہے، جس میں صحتِ عامہ کے ممتاز ماہرین، معالجین، محققین اور حکومتی عہدیدار شامل ہیں

شرکاء نے عالمی ادارۂ صحت کی حال ہی میں جاری کردہ عالمی ہیپاٹائٹس رپورٹ اور 79ویں عالمی صحت اسمبلی کے وزارتی اعلامیے کا جائزہ لیا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اگرچہ ہیپاٹائٹس کی روک تھام، تشخیص، علاج اور مکمل شفا کے مؤثر ذرائع موجود ہیں، تاہم اس بیماری کے بوجھ کے مقابلے میں اسے اب بھی مطلوبہ سیاسی توجہ اور مالی وسائل حاصل نہیں ہو رہے

مشاورتی اجلاس نے رکن ممالک اور صحت کے شعبے کے حکام کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے وسیع تر ایجنڈے میں ہیپاٹائٹس کو زیادہ نمایاں مقام دلانے کے مختلف امکانات پر تبادلۂ خیال کریں۔ گفتگو میں وائرل ہیپاٹائٹس کے حوالے سے اعلیٰ سطحی سیاسی توجہ کو فروغ دینے کے مواقع اور چیلنجز کا جائزہ لیا گیا، جن میں مستقبل میں اقوامِ متحدہ کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے انعقاد سے متعلق طریقۂ کار، سیاسی اور مالی پہلو شامل تھے

شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ 2030 تک ہیپاٹائٹس کے خاتمے کے اہداف کے حصول کے لیے اتحاد سازی کے عمل کو مزید مضبوط بنایا جائے، مختلف جغرافیائی خطوں کی وسیع نمائندگی کو یقینی بنایا جائے اور مزید رکن ممالک کو اس عمل میں شامل کیا جائے

اگرچہ اجلاس میں کوئی باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم شرکاء نے اس موضوع پر غیر رسمی مشاورت جاری رکھنے اور اقوامِ متحدہ کے موجودہ عمل اور پلیٹ فارمز کے ذریعے ہیپاٹائٹس کے مسئلے کو زیادہ سیاسی اہمیت دلانے کے لیے عملی اقدامات تلاش کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا

یہ اجلاس 79ویں عالمی صحت اسمبلی (WHA79) میں پیدا ہونے والی مثبت پیش رفت کا تسلسل تھا، جہاں وزرائے صحت اور اعلیٰ حکومتی نمائندوں نے ہیپاٹائٹس کے خاتمے سے متعلق وزارتی اعلامیے کی توثیق کی تھی۔ یہ اعلامیہ مختلف خطوں پر مشتمل ایک سیاسی اپیل ہے جس میں قیادت، مالی وسائل اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ پیش رفت کو تیز کیا جا سکے

اجلاس میں پاکستان، فرانس، جمہوریہ چیک، میکسیکو، پیرو، ترکیہ، منگولیا، چین، برازیل، ملائیشیا، اسپین اور فلپائن کے نمائندوں نے شرکت کی


محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 25 جون، 2026 کو 03:44 PM
آخری تدوین: 25 جون، 2026



