امریکی مصنوعات کی قیمتیں اور معیار بہتر ہوں تو خرید سکتے ہیں، ایرانی مرکزی بینک

ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالنصر ہمتی نے کہا ہے کہ ایران امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا پابند نہیں، تاہم اگر قیمتیں اور معیار موزوں ہوں تو امریکا سے تجارت میں کوئی رکاوٹ نہیں۔ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے منجمد اثاثوں سے امریکی زرعی مصنوعات خریدنے کا ذکر کیا ہے
ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالنصر ہمتی نے کہا ہے کہ ایران امریکا سے زرعی مصنوعات خریدنے کا پابند نہیں، تاہم اگر امریکی مصنوعات کی قیمت اور معیار دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ موزوں ہوئے تو ایران کے لیے امریکا سے تجارت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔
اپنے ایک بیان میں عبدالنصر ہمتی نے کہا کہ ایران بین الاقوامی منڈی میں تجارتی فیصلے معاشی مفادات، معیار اور قیمتوں کی بنیاد پر کرتا ہے اور کسی مخصوص ملک سے خریداری اس کی پالیسی کا لازمی حصہ نہیں ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کی حالیہ زرعی خریداریوں میں امریکی اور یورپی یونین کی بڑی زرعی کمپنیاں معمول کے مطابق شامل رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران عالمی منڈی میں مختلف سپلائرز کے ساتھ تجارتی روابط برقرار رکھے ہوئے ہے۔
ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں اعلان کیا تھا کہ ایران کے بعض منجمد اثاثے بحال کیے جا رہے ہیں اور ان فنڈز کو خوراک اور زرعی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے مرحلے کے نتائج پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایران کو جاری کیے جانے والے مالی وسائل کا ایک حصہ امریکی کسانوں سے مکئی، سویابین اور دیگر زرعی اجناس خریدنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
امریکی صدر کے مطابق اس پیش رفت سے امریکی زرعی شعبے کو فائدہ پہنچے گا اور امریکا کے کسان اس فیصلے پر خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں کسانوں کی جانب سے متعدد مثبت ردعمل موصول ہوئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت نہ صرف سیاسی تعلقات میں بہتری کا اشارہ دے رہی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان محدود تجارتی تعاون کے امکانات بھی بڑھا سکتی ہے۔ تاہم حتمی صورت حال کا انحصار مستقبل میں ہونے والے معاہدوں اور ان پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان تجارتی روابط میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کے مثبت اثرات عالمی زرعی منڈیوں اور علاقائی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 23 جون، 2026 کو 05:58 AM
آخری تدوین: 23 جون، 2026



