فلسطینیوں کی زمین پر نئے امریکی سفارت خانے کی تعمیر کا متنازعہ معاہدہ

یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے لیے زمین کا 99 سالہ معاہدہ، امریکا صرف ایک ڈالر ادا کرے گا
( واشنگٹن / یروشلم ) امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایک نئے معاہدے پر دستخط کیے گئے ہیں، جس کے تحت مغربی یروشلم میں واقع وہ زمین، جو 1948 سے قبل فلسطینی شہریوں کی ملکیت تھی، 99 برس کے لیے امریکی حکومت کو لیز پر دی جائے گی جہاں امریکا کا مستقل سفارت خانہ قائم کیا جائے گا

اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی نے معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زمین کی لیز 99 سال کے لیے دی گئی ہے اور اس کے عوض امریکا اسرائیل کو صرف ایک امریکی ڈالر ادا کرے گا۔ ان کے مطابق یہ مقام مستقبل میں امریکا کے مستقل سفارت خانے کی جگہ ہوگا

امریکی سفارت خانہ اس وقت بھی مغربی یروشلم میں قائم ہے، تاہم نئی زمین پر مستقل اور وسیع سفارتی کمپلیکس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت موجودہ سفارت خانے کی سہولیات کو مزید وسعت دی جائے گی۔
یہ پیش رفت اس فیصلے کا تسلسل سمجھی جا رہی ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پہلی مدتِ صدارت میں دسمبر 2017 میں کیا تھا، جب امریکا نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا تھا۔ مئی 2018 میں امریکی سفارت خانہ باضابطہ طور پر یروشلم منتقل کر دیا گیا تھا

اس فیصلے پر اس وقت عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آیا تھا۔ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادوں اور بین الاقوامی اتفاقِ رائے کے مطابق یروشلم کی حتمی حیثیت اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان مذاکرات کے ذریعے طے ہونا ہے، اسی لیے دنیا کے بیشتر ممالک آج بھی اپنے سفارت خانے تل ابیب میں ہی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل میں انسانی حقوق کی تنظیم عدالہ نے پہلے ہی مؤقف اختیار کیا تھا کہ سفارت خانے کے لیے مختص زمین فلسطینیوں سے 1950 کے "Absentees' Property Law" کے تحت ضبط کی گئی تھی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس قانون کے ذریعے ان فلسطینیوں کی جائیدادیں ریاستی تحویل میں لی گئیں جو 1948 کی جنگ کے دوران اپنے گھروں سے بے دخل یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے

عدالہ کے مطابق سفارت خانے کی توسیع کے لیے اس زمین کا استعمال بین الاقوامی قانون سے متصادم ہے۔ تنظیم نے استدلال کیا کہ 1907 کے ہیگ ریگولیشنز کے آرٹیکل 46 کے تحت نجی املاک کی ضبطی ممنوع ہے، اس لیے متنازع زمین پر مستقل سفارتی کمپلیکس کی تعمیر قانونی سوالات کو جنم دیتی ہے۔
اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ مغربی یروشلم اسرائیل کا غیر متنازع حصہ ہے اور وہاں سفارت خانہ قائم کرنا اس کی خودمختاری کے مطابق ہے، جبکہ فلسطینی قیادت اور متعدد بین الاقوامی ادارے اس معاملے کو یروشلم کی متنازع حیثیت اور فلسطینی املاک کے حقوق سے جوڑتے ہیں

تجزیہ کاروں کے مطابق 99 سالہ لیز کا یہ معاہدہ امریکا اور اسرائیل کے قریبی سفارتی تعلقات کی ایک نئی علامت ہے، تاہم اس پر فلسطینی قیادت، انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی برادری کی جانب سے ایک بار پھر قانونی اور سیاسی اعتراضات سامنے آنے کا امکان ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 2 جولائی، 2026 کو 03:48 PM
آخری تدوین: 2 جولائی، 2026



