ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل سے بڑھتے تعلقات پر خبردار کر دیا

ایران نے متحدہ عرب امارات کو اسرائیل کے ساتھ گہرے تعلقات بڑھانے پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے صبر کی بھی ایک حد ہے۔ محسن رضائی نے خطے میں امریکی پالیسیوں اور ایران مخالف اقدامات پر بھی تنقید کی
( تہران) قطری میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر کے ملٹری سیکرٹری محسن رضائی نے کہا کہ ایران نے ابوظہبی کے ساتھ دوستی کے دروازے بند نہیں کیے، تاہم متحدہ عرب امارات کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات مزید گہرے کرنا خطے کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
محسن رضائی نے کہا کہ تہران،متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے روابط سے مکمل طور پر آگاہ ہے اور ابوظہبی کو اسرائیل کی سازشوں میں نہیں الجھنا چاہئے۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق چیف نے امریکہ پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن خطے کے ممالک کو ایران سے خوفزدہ کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران خطے کے تمام ممالک کے ساتھ دوستانہ اور برادرانہ تعلقات چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز تجارت کیلئے کھلا ہے، لیکن ان قوتوں کیلئے نہیں جو خطے میں لشکر کشی اور بدامنی پھیلانے کی کوشش کرتی ہیں۔
محسن رضائی نے امریکی فوجی سرگرمیوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ماضی میں امریکہ نے سوویت یونین کے خلاف خطے میں بحری بیڑے بھیجے تھے، اب سوال یہ ہے کہ امریکا کس کے خلاف اپنی فوجی طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر چین بھی یہ چاہتا ہے کہ ایران ایٹم بم نہ بنائے تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایران نے کب ایٹم بم بنانے کا اعلان کیا؟ ان کے مطابق صرف امریکہ اور اسرائیل ہی ایران پر ایسے الزامات عائد کرتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل اور امریکا کی ایران کے خلاف ممکنہ جنگی تیاریوں کے دوران یو اے ای بھی کشیدگی کی زد میں رہا، جبکہ بعض اطلاعات میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امارات نے ممکنہ طور پر محدود جوابی اقدامات کیے۔
اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی متحدہ عرب امارات کو ایران مخالف سرگرمیوں میں ملوث قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران پر حملوں کے دوران یو اے ای نے مذمت تک نہیں کی، لہٰذا ابوظہبی کو اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہئے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوکے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہوں نے ایران جنگ کے دوران متحدہ عرب امارات کا خفیہ دورہ کیا اور اماراتی صدر سے ملاقات کی، تاہم یو اے ای نے اس خبر کی تردید کر دی تھی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 18 مئی، 2026 کو 03:58 AM
آخری تدوین: 18 مئی، 2026



