وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
دُنیا

جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے 2024 کا معاہدہ مؤثر بنیاد فراہم کرتا ہے: لبنانی پارلیمان کے سپیکر

W
Web Desk
24 جون، 2026
جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے 2024 کا معاہدہ مؤثر بنیاد فراہم کرتا ہے: لبنانی پارلیمان کے سپیکر

لبنانی پارلیمان کے سپیکر نبیہ بری نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے گفتگو میں نومبر 2024 کے جنگ بندی معاہدے کو موجودہ امن برقرار رکھنے کے لیے مؤثر قرار دیا۔ میکرون نے لبنان کے استحکام اور خودمختاری کی اہمیت پر زور دیا

لبنانی پارلیمان کے سپیکر نبیہ بری نے موجودہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نومبر 2024 میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

لبنان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق نبیہ بری نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون سے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کہا کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان نومبر 2024 میں ہونے والا جنگ بندی معاہدہ خطے میں استحکام کے فروغ کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ عمل فریم ورک فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاہدے میں جنگ بندی کی نگرانی اور ممکنہ خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے واضح طریقہ کار پہلے سے موجود ہیں، جنہیں فعال بنا کر کشیدگی میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے اور امن کے قیام کو مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔

نبیہ بری نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں معاہدے کی شقوں پر عملدرآمد ہی خطے کو مزید تنازعات سے بچانے کا مؤثر ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے لبنان کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ عالمی برادری کو لبنان کے استحکام کے لیے خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے خطے میں امن اور سفارتی کوششوں کے فروغ کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مبصرین کے مطابق لبنان اور فرانس کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال اور جنگ بندی کے مستقبل پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 24 جون، 2026 کو 04:07 AM

آخری تدوین: 24 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایرانی صدر کا اقوام متحدہ میں دوٹوک اعلان
تازہ ترین

امریکا کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے، ایرانی صدر کا اقوام متحدہ میں دوٹوک اعلان

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں امریکا کو واضح پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ایران فوجی طاقت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے پر یقین رکھتا ہے۔ ایرانی صدر نے امریکی و اسرائیلی حملوں، عالمی برادری کے مبینہ دوہرے معیار اور آبنائے ہرمز کے معاملے پر بھی اظہارِ خیال کیا

Web Desk23 ستمبر، 2026
ہیڈر: اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے، اردوان
تازہ ترین

ہیڈر: اسرائیلی حکومت ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے، اردوان

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔ اردوان نے آزاد فلسطینی ریاست، 1967 کی سرحدوں، مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے، غزہ کی تعمیر نو اور خطے میں سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی اتحاد، آبنائے ہرمز اور اسرائیلی وفد کے واک آؤٹ کا بھی ذکر کیا

Web Desk22 ستمبر، 2026
اسحاق ڈار کی نیویارک میں اہم ملاقاتیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور
تازہ ترین

اسحاق ڈار کی نیویارک میں اہم ملاقاتیں، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد پر زور

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر مصر اور سعودی عرب سمیت مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں میں مشرق وسطیٰ، ایران کی صورتحال اور علاقائی چیلنجز پر گفتگو ہوئی۔ اسحاق ڈار نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر مکمل عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرکاری و سفارتی پاسپورٹ پر ویزا شرط ختم کرنے کے معاہدے پر بھی دستخط ہوئے

Web Desk22 ستمبر، 2026