امریکی انٹیلی جنس کی وارننگ: نیتن یاہو ایران-امریکا امن معاہدے کو سبوتاژ کر سکتے ہیں

امریکی انٹیلی جنس نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھ کر ایران اور امریکا کے درمیان جاری امن مذاکرات اور ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں
(واشنگٹن) امریکی انٹیلی جنس اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو لبنان میں حزب اللہ کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رکھ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات اور ممکنہ مستقل معاہدہ متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ سفارتی مفاہمت میں لبنان میں جنگ بندی اور خطے میں کشیدگی میں کمی اہم نکات کے طور پر شامل ہیں۔ تاہم اسرائیل حزب اللہ کو اپنی قومی سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف فوجی دباؤ برقرار رکھنے کا خواہاں ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی انٹیلی جنس اداروں نے ٹرمپ انتظامیہ کو آگاہ کیا ہے کہ بنجمن نیتن یاہو کو اندرونی سیاسی اور سکیورٹی دباؤ کا سامنا ہے، جس کے باعث وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی موجودگی برقرار رکھنے اور حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان حالیہ جھڑپوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مذاکراتی عمل کو بھی متاثر کیا۔ ذرائع کے مطابق سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے مذاکرات کو مؤخر کرنا پڑا کیونکہ ایران نے مؤقف اختیار کیا کہ لبنان میں حملوں کا خاتمہ سفارتی پیش رفت کے لیے ناگزیر ہے۔
امریکی اور قطری ثالثی کی کوششوں کے نتیجے میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان نئی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا، تاہم جنگ بندی کے باوجود بعض علاقوں میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جس سے معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
سیاسی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھیں تو نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ ایک نئے علاقائی بحران کی جانب بھی دھکیلا جا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند ہفتے خطے کی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوں گے، کیونکہ امن مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کا انحصار زمینی حالات اور فریقین کے عملی اقدامات پر ہوگا۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 20 جون، 2026 کو 08:18 AM
آخری تدوین: 20 جون، 2026



