ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ

ایران کے خلاف نئی امریکی پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا، برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی دونوں کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
ایران کے خلاف امریکا کی جانب سے مزید سخت پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں یہ خدشات پیدا ہوگئے ہیں کہ نئی پابندیوں کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوسکتی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.20 ڈالر، یعنی 2.4 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد فی بیرل قیمت 93.82 ڈالر تک پہنچ گئی۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں 2.33 ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 88.16 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
دونوں اہم عالمی آئل بینچ مارکس کی قیمتیں 24 جولائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ تیل کی قیمتوں میں مسلسل پانچویں سیشن اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
امریکا کی ایران کے خلاف سخت پابندیوں کا اعلان
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تہران کے ساتھ کاروباری تعلقات جاری رکھنے والے ممالک اور اداروں کے خلاف بھی امریکی اقدامات کیے جاسکتے ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے CNBC کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے جا رہا ہے۔ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کی اپنے پراکسی گروہوں کے ذریعے کارروائیاں کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔
سپلائی میں خلل کے خدشات
ماہرین کے مطابق ایران سے متعلق پابندیوں میں شدت عالمی تیل کی تجارت پر اثرانداز ہوسکتی ہے، خصوصاً اگر ایرانی تیل کی برآمدات میں نمایاں کمی آتی ہے۔ یہی خدشات عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔
مارکیٹ میں سرمایہ کار اب امریکی پابندیوں کے عملی اثرات، ایران کی جانب سے ممکنہ ردعمل اور عالمی سطح پر تیل کی سپلائی پر پڑنے والے اثرات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 21 اگست، 2026 کو 04:16 AM
آخری تدوین: 21 اگست، 2026



