وزیرخزانہ کا پیٹرولیم لیوی بلند شرح پر برقرار رکھنے کا اشارہ ،مزید اضافہ نہیں ہوگا- وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ٹیکس نیٹ میں وسعت، جدید خودکار ٹیکس نظام اور نجی شعبے کے فروغ پر توجہ دی جا رہی ہے، جبکہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اشارہ دیا ہے کہ حکومت پیٹرولیم لیوی کو موجودہ بلند سطح پر برقرار رکھے گی، تاہم اس میں مزید اضافہ نہیں کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ مالی سال کا بجٹ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے اور اس میں معاشی استحکام کے ساتھ عوامی ریلیف کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔
اسلام آباد میں دیگر وفاقی وزرا کے ہمراہ پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کے لیے 70 ارب روپے کی اضافی سبسڈی فراہم کی گئی ہے، جبکہ چھوٹے کسانوں کی معاونت کے لیے خصوصی اسکیم متعارف کرائی گئی اور زرعی شعبے کے لیے 125 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے کے لیے جدید اور خودکار ٹیکس نظام متعارف کرا رہی ہے تاکہ محصولات میں اضافہ اور ٹیکس نظام میں شفافیت لائی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے کا انفرا اسٹرکچر دباؤ کا شکار ہے اور اس کے اثرات آئندہ مالی سال تک برقرار رہ سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بعض صوبوں نے اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کی ہے جبکہ وفاقی حکومت محدود وسائل کے باوجود نجی شعبے کو فروغ دینے اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو وسعت دینے پر توجہ دے رہی ہے۔ وزیر خزانہ نے سندھ حکومت کی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ماڈل کو ایک مثبت مثال بھی قرار دیا۔
خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی قیادت مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہی ہے، تاہم اگر توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو اس کے معاشی اثرات آئندہ سال بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے کہا کہ موجودہ بجٹ تنخواہ دار طبقے، صنعتکاروں اور کاروباری برادری کے لیے سازگار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر متوسط اور تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا گیا ہے، جبکہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور سماجی شعبے کے لیے بھی اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ برآمدات ملکی معیشت کی ترقی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں اور حکومت کی پالیسی کا مقصد صرف ایکسپورٹرز ہی نہیں بلکہ ان سے وابستہ مزدوروں، ملازمین اور کاروباری سرگرمیوں کو بھی فائدہ پہنچانا ہے۔ ان کے مطابق ملک میں 12 سے 13 بڑی کمپنیاں سرمایہ کاری کے لیے آ چکی ہیں، جبکہ دانش اسکولز، جامعات اور پسماندہ علاقوں کے تعلیمی اداروں کے لیے بھی بجٹ میں خصوصی فنڈز رکھے گئے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ایف بی آر کی ڈیجیٹلائزیشن کا عمل تیز کیا جا رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی سے لیس ایک مؤثر اور شفاف نظام قائم کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پرال (PRAL) کو ایک آزاد اور پیشہ ورانہ ادارے کی شکل دی جا چکی ہے، جہاں نوجوان اور باصلاحیت افراد جدید ٹیکس نظام کی بہتری پر کام کر رہے ہیں۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 13 جون، 2026 کو 11:32 AM
آخری تدوین: 13 جون، 2026



