وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
تازہ ترین

’تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، دوبارہ جنگ چاہتے ہیں‘، جرمنی کے ڈرون الزامات پر روس کا سخت ردعمل

W
Web Desk
7 ستمبر، 2026
’تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا گیا، دوبارہ جنگ چاہتے ہیں‘، جرمنی کے ڈرون الزامات پر روس کا سخت ردعمل

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے لیپزگ ایئرپورٹ ڈرون واقعے میں جرمنی کے روس پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے جنگ کی جانب خطرناک قدم قرار دے دیا

ماسکو: روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ پر مبینہ ڈرون حملے کی ناکام کوشش کے معاملے میں روس پر عائد الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی نے اس واقعے کی مکمل تحقیقات کیے بغیر روس کو ذمہ دار قرار دیا، جو ایک حقیقی جنگ کے آغاز کی جانب خطرناک قدم ہے۔

روسی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں سرگئی لاوروف نے کہا کہ کسی نے یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ لیپزگ ایئرپورٹ پر پایا جانے والا ڈرون کس کا تھا۔ ان کے بقول روس کے خلاف اس طرح کے الزامات بنیادی طور پر حقیقی جنگ کی طرف پیش رفت ہیں۔

لاوروف نے جرمنی کی جانب سے بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں روسی ثقافتی مرکز ’روس ہاؤس‘ کو بند کرنے کے فیصلے پر بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ دوسری عالمی جنگ کے آغاز سے قبل بھی جرمنی نے اپنے سفارتی مشنز بند کیے تھے۔

روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس نوعیت کا کھیل ناقابل قبول ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جرمنی دوبارہ جنگ کی جانب بڑھنا چاہتا ہے۔

انہوں نے جرمن چانسلر فریڈرک مرز کے اس بیان کو بھی خطرناک رجحان قرار دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جرمن حکومت کا مقصد یورپ کی سب سے مضبوط فوج تشکیل دینا ہے۔

سرگئی لاوروف کا کہنا تھا کہ روسی قیادت ان پیش رفت کا جائزہ لے گی اور اس کے مطابق مناسب نتائج اخذ کرے گی۔

لیپزگ ایئرپورٹ پر کیا ہوا؟

رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ 4 اگست کو جرمنی کے لیپزگ ایئرپورٹ کے سکیورٹی زون میں ایک ڈرون پایا گیا تھا جس پر مبینہ طور پر دھماکا خیز مواد نصب تھا۔ یہ ڈرون ایک یوکرینی کارگو طیارے کے قریب موجود تھا، جس کے ذریعے یوکرین کے لیے فوجی سامان کی ترسیل بھی کی جاتی ہے۔

جرمنی نے یکم ستمبر کو باضابطہ طور پر روس کو ڈرون حملے کی ناکام کوشش کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے ماسکو کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔

ان اقدامات میں بون میں روسی قونصل خانے اور برلن میں قائم روسی ثقافتی مرکز کی بندش بھی شامل تھی۔ جرمنی نے روس میں تعینات متعلقہ عملے اور ان کے اہل خانہ کو بھی جلد از جلد ملک چھوڑنے کا حکم دیا۔

روس کی جانب سے ان الزامات کی تردید کے بعد جرمنی اور روس کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 7 ستمبر، 2026 کو 03:04 AM

آخری تدوین: 7 ستمبر، 2026

متعلقہ مضامین

ٹرمپ کا پاک بھارت جنگ پر بڑا دعویٰ، 11 طیارے گرائے گئے، نوبیل انعام نہ ملنے کا شکوہ
امریکا

ٹرمپ کا پاک بھارت جنگ پر بڑا دعویٰ، 11 طیارے گرائے گئے، نوبیل انعام نہ ملنے کا شکوہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ پاک بھارت جنگ 2025 کے دوران 11 طیارے گرائے گئے۔ ٹرمپ نے جنگ رکوانے، بھاری ٹیرف کی دھمکی، ایران کے خلاف ممکنہ آپریشن اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل پر بھی اظہارِ خیال کیا

Web Desk24 اکتوبر، 2026
پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اظہارِ تشویش، سفارتکاری پر زور
تازہ ترین

پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر اظہارِ تشویش، سفارتکاری پر زور

استنبول میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کا اجلاس، حوثی حملوں کی مذمت، امریکا ایران تنازع کے حل کے لیے سفارتکاری پر زور اور فلسطین میں دو ریاستی حل کا مطالبہ

Web Desk24 اکتوبر، 2026
مولانا عبدالغفور حیدری کی مسلم لیگ (ن) پر تنقید، جنرل باجوہ سے ماضی کی گفتگو کا انکشاف
پاکستان

مولانا عبدالغفور حیدری کی مسلم لیگ (ن) پر تنقید، جنرل باجوہ سے ماضی کی گفتگو کا انکشاف

مولانا عبدالغفور حیدری کا ن لیگ پر تنقید کرتے ہوئے ماضی یاد رکھنے کا مشورہ، جے یو آئی پی ٹی آئی پارلیمانی تعاون اور خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر اہم بیان

زاہد فاروق ملک23 اکتوبر، 2026