وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکا: 27 لاکھ زندہ افراد کو سوشل سیکیورٹی ریکارڈ میں مردہ ظاہر کرنے کے مبینہ منصوبے کا انکشاف

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر
10 جون، 2026
امریکا: 27 لاکھ زندہ افراد کو سوشل سیکیورٹی ریکارڈ میں مردہ ظاہر کرنے کے مبینہ منصوبے کا انکشاف

امریکا میں سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن کے سابق عہدیدار نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام نے تقریباً 27 لاکھ زندہ افراد کو "ڈیتھ ماسٹر فائل" میں شامل کر کے مردہ ظاہر کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم ادارے نے ان الزامات کی تردید کر دی ہے

واشنگٹن: امریکا میں سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن سے متعلق ایک بڑا سیاسی اور انتظامی تنازع سامنے آیا ہے، جہاں ادارے کے سابق سینئر عہدیدار جیریمیا شوفیلڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے بعض حکام نے تقریباً 27 لاکھ زندہ افراد کو سوشل سیکیورٹی کی "ڈیتھ ماسٹر فائل" میں شامل کر کے انہیں مردہ ظاہر کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔

وسل بلوئر شکایت کے مطابق یہ مجوزہ اقدام امیگریشن پالیسیوں کے نفاذ کو مؤثر بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ شوفیلڈ کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کر لیتا تو متاثرہ افراد اپنی ملازمتوں، بینک اکاؤنٹس، کریڈٹ ہسٹری، حکومتی مالی فوائد اور دیگر اہم سہولیات سے محروم ہو سکتے تھے۔

جیریمیا شوفیلڈ کے مطابق انہیں تقریباً 27 لاکھ افراد پر مشتمل ایک فہرست کا جائزہ لینے کی ہدایت دی گئی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ ابتدائی جانچ کے دوران معلوم ہوا کہ فہرست میں شامل افراد حقیقت میں زندہ تھے، جن میں امریکی شہری، گرین کارڈ ہولڈرز، بزرگ افراد اور نوجوان بھی شامل تھے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سوشل سیکیورٹی ایجنسی کے قانونی ماہرین نے خبردار کیا تھا کہ زندہ افراد کو سرکاری ریکارڈ میں مردہ ظاہر کرنا وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے، جس کے باعث انہوں نے اس منصوبے میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔

یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب اطلاعات سامنے آئیں کہ 2025 میں تقریباً 6,100 افراد کو عارضی طور پر "ڈیتھ ماسٹر فائل" میں شامل کیا گیا تھا، تاہم بعد میں اس اقدام کو واپس لے لیا گیا۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ایسی حکمت عملی بعض امیگرنٹس کو دباؤ میں لا کر "خود ملک چھوڑنے" پر مجبور کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی تھی۔

دوسری جانب سوشل سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ 27 لاکھ افراد کو کبھی بھی ڈیتھ ماسٹر فائل میں شامل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ عملی طور پر نافذ ہوا۔ ادارے کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں افراد کے سرکاری ریکارڈ میں تبدیلی کا دعویٰ بے بنیاد ہے۔

اس معاملے پر امریکی سینیٹرز الزبتھ وارن اور رچرڈ بلومنتھل سمیت متعدد قانون سازوں نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ وفاقی اختیارات کے غلط استعمال اور شہری حقوق کی سنگین خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق اگر کسی زندہ شخص کا نام غلطی سے ڈیتھ ماسٹر فائل میں شامل ہو جائے تو اس کے لیے بینکاری، روزگار، کریڈٹ، صحت کی سہولیات اور سرکاری فوائد تک رسائی تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اس ڈیٹا بیس کو امریکی حکومت کے حساس ترین ریکارڈز میں شمار کیا جاتا ہے۔

فی الحال یہ معاملہ تحقیقات اور سیاسی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ بعض افراد ان الزامات کو مسترد کر رہے ہیں، جبکہ وسل بلوئر اور ان کے قانونی نمائندے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔ امریکی کانگریس میں اس حوالے سے مزید سماعتوں اور تحقیقات کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 10 جون، 2026 کو 02:54 PM

آخری تدوین: 10 جون، 2026

متعلقہ مضامین