امریکی سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: گرین کارڈ ہولڈرز کی ملک بدری آسان، بارڈر حکام کو مزید اختیارات
محمد نعیم اختر
امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ گرین کارڈ ہولڈرز کے خلاف ملک بدری کی کارروائی کے لیے بارڈر حکام کو جرم ثابت کرنے کے بجائے صرف معقول شبہے کی بنیاد دکھانا کافی ہوگا
(واشنگٹن) امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں وفاقی سرحدی حکام کے اختیارات میں اضافہ کرتے ہوئے گرین کارڈ ہولڈرز کو ملک بدر کرنے کا عمل آسان بنا دیا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جن پر ایسے جرائم کے الزامات ہوں جنہیں امریکی امیگریشن قانون میں "اخلاقی پستی" سے متعلق جرم قرار دیا جاتا ہے۔
عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ جب کوئی گرین کارڈ ہولڈر بیرونِ ملک سفر کے بعد امریکہ واپس آتا ہے تو بارڈر حکام پر یہ لازم نہیں کہ وہ واضح اور قابلِ یقین شواہد کے ساتھ ثابت کریں کہ اس شخص نے جرم کیا ہے۔ اس کے بجائے حکام کو صرف یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ ان کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجہ موجود ہے کہ متعلقہ شخص ایسے جرم میں ملوث رہا ہے۔

فیصلہ جسٹس کلیرنس تھامس نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ (INA) حکومت پر ایسا کوئی اضافی ثبوتی بوجھ عائد نہیں کرتا۔

یہ مقدمہ چینی نژاد گرین کارڈ ہولڈر مک چوئی لاؤ سے متعلق تھا، جنہیں 2012 میں چین سے واپسی پر نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر داخلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت ان پر نیو جرسی میں ٹریڈ مارک جعلسازی کے الزامات زیرِ سماعت تھے۔ بعد ازاں انہوں نے اس جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کی گئی۔

دوسری جانب اختلافی نوٹ میں جسٹس کیٹانجی براؤن جیکسن نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو کسی گرین کارڈ ہولڈر کی مستقل رہائشی حیثیت ختم کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس نے واقعی ایسا جرم کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عدالت کے اس فیصلے سے حکومت کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور قانونی مستقل رہائشیوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی امیگریشن پالیسی پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے اور مستقبل میں گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے بیرونِ ملک سفر کے بعد امریکہ واپسی کے معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 24 جون، 2026 کو 02:49 PM
آخری تدوین: 24 جون، 2026



