وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

امریکی سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: گرین کارڈ ہولڈرز کی ملک بدری آسان، بارڈر حکام کو مزید اختیارات

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر
24 جون، 2026
امریکی سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ: گرین کارڈ ہولڈرز کی ملک بدری آسان، بارڈر حکام کو مزید اختیارات

امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ گرین کارڈ ہولڈرز کے خلاف ملک بدری کی کارروائی کے لیے بارڈر حکام کو جرم ثابت کرنے کے بجائے صرف معقول شبہے کی بنیاد دکھانا کافی ہوگا

(واشنگٹن) امریکی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں وفاقی سرحدی حکام کے اختیارات میں اضافہ کرتے ہوئے گرین کارڈ ہولڈرز کو ملک بدر کرنے کا عمل آسان بنا دیا ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جن پر ایسے جرائم کے الزامات ہوں جنہیں امریکی امیگریشن قانون میں "اخلاقی پستی" سے متعلق جرم قرار دیا جاتا ہے۔

عدالت نے 6 کے مقابلے میں 3 ججوں کی اکثریت سے فیصلہ دیتے ہوئے قرار دیا کہ جب کوئی گرین کارڈ ہولڈر بیرونِ ملک سفر کے بعد امریکہ واپس آتا ہے تو بارڈر حکام پر یہ لازم نہیں کہ وہ واضح اور قابلِ یقین شواہد کے ساتھ ثابت کریں کہ اس شخص نے جرم کیا ہے۔ اس کے بجائے حکام کو صرف یہ ظاہر کرنا ہوگا کہ ان کے پاس اس بات پر یقین کرنے کی معقول وجہ موجود ہے کہ متعلقہ شخص ایسے جرم میں ملوث رہا ہے۔

فیصلہ جسٹس کلیرنس تھامس نے تحریر کیا، جس میں کہا گیا کہ امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ (INA) حکومت پر ایسا کوئی اضافی ثبوتی بوجھ عائد نہیں کرتا۔

یہ مقدمہ چینی نژاد گرین کارڈ ہولڈر مک چوئی لاؤ سے متعلق تھا، جنہیں 2012 میں چین سے واپسی پر نیویارک کے جان ایف کینیڈی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر داخلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس وقت ان پر نیو جرسی میں ٹریڈ مارک جعلسازی کے الزامات زیرِ سماعت تھے۔ بعد ازاں انہوں نے اس جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد ان کے خلاف ملک بدری کی کارروائی شروع کی گئی۔

دوسری جانب اختلافی نوٹ میں جسٹس کیٹانجی براؤن جیکسن نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کو کسی گرین کارڈ ہولڈر کی مستقل رہائشی حیثیت ختم کرنے سے پہلے یہ ثابت کرنا چاہیے کہ اس نے واقعی ایسا جرم کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ عدالت کے اس فیصلے سے حکومت کو غیر معمولی اختیارات حاصل ہو جائیں گے اور قانونی مستقل رہائشیوں کے حقوق متاثر ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی امیگریشن پالیسی پر دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے اور مستقبل میں گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے بیرونِ ملک سفر کے بعد امریکہ واپسی کے معاملات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 24 جون، 2026 کو 02:49 PM

آخری تدوین: 24 جون، 2026

متعلقہ مضامین

نیویارک میں یہودیوں کا اسرائیل اور جبری فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج
تازہ ترین

نیویارک میں یہودیوں کا اسرائیل اور جبری فوجی بھرتی کے خلاف احتجاج

آرتھوڈوکس یہودیوں نے نیویارک شہر میں اسرائیلی قونصل خانے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے ریاستِ اسرائیل، اس کی جاری فوجی کارروائیوں اور مذہبی یہودیوں کی مبینہ جبری فوجی بھرتی کے خلاف شدید احتجاج کیا

Web Desk24 جون، 2026
ٹرمپ کی ایران کو وارننگ، آبنائے ہرمز سے متعلق غلط معلومات پر مذاکرات ختم کرنے کی دھمکی
تازہ ترین

ٹرمپ کی ایران کو وارننگ، آبنائے ہرمز سے متعلق غلط معلومات پر مذاکرات ختم کرنے کی دھمکی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس اور انشورنس فیس سے متعلق ایران کی معلومات غلط ثابت ہوئیں تو امریکا ایران مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے

Web Desk24 جون، 2026
آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس ناقابل قبول، کسی ملک کو اجازت نہیں دی جا سکتی: مارکو روبیو
تازہ ترین

آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس ناقابل قبول، کسی ملک کو اجازت نہیں دی جا سکتی: مارکو روبیو

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی بھی ملک کو وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول یا فیس عائد کرنے کا حق حاصل نہیں

Web Desk24 جون، 2026