اپنے دفاع سے ہرگز گریز نہیں کریں گے، سعودی وزیر خارجہ کا دوٹوک اعلان


سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع اور مفادات کے تحفظ کے لیے کسی صورت گریز نہیں کرے گا۔ ماسکو میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں انہوں نے حوثیوں کی مبینہ جارحیت پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ روسی وزیر خارجہ نے بھی سعودی عرب میں شہری اہداف پر حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے باب المندب میں سلامتی اور آزادانہ آمدورفت یقینی بنانے پر زور دیا
ماسکو میں سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے کسی صورت گریز نہیں کرے گا۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے ساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب حوثیوں کی جارحیت کے خلاف اپنے دفاع کا حق استعمال کرنے سے ہرگز دریغ نہیں کرے گا۔

سعودی وزیر خارجہ نے الزام عائد کیا کہ حوثی ملیشیا جب بھی خود کو مشکل صورتحال میں پاتی ہے تو تشدد کا راستہ اختیار کرتی ہے۔ ان کے مطابق حوثیوں نے اپنے لیے ایک ایسا راستہ اختیار کیا ہے جس کے نتائج وہ خود برداشت نہیں کر سکیں گے۔

فیصل بن فرحان کا کہنا تھا کہ حوثی ملیشیا یمن میں اپنے اندرونی مسائل کو سعودی عرب کی جانب منتقل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یمن کی حکومت نے حوثیوں کے ساتھ ذمہ داری کے ساتھ بات چیت کا موقع فراہم کیا، تاہم یہ گروہ یمن اور اس کے عوام کے مفادات کے بجائے اپنے ذاتی اور محدود مفادات کو ترجیح دے رہا ہے۔
دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے سعودی عرب میں شہری اہداف پر حوثیوں کے حملوں کو ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر کے داخلی راستے باب المندب میں سلامتی اور آزادانہ آمدورفت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔

شائع ہوا: 9 ستمبر، 2026 کو 06:17 AM
آخری تدوین: 9 ستمبر، 2026



