امریکا میں 200 ارب روپے کا مبینہ فراڈ، 5 پاکستانی مطلوب قرار
محمد نعیم اختر9 ستمبر، 2026

امریکا میں محکمہ صحت سے مبینہ طور پر 70 کروڑ ڈالر یعنی تقریباً 200 ارب روپے کے فراڈ کا معاملہ سامنے آگیا۔ امریکی حکام کے مطابق پانچ پاکستانی شہری مبینہ فراڈ میں ملوث ہیں، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق پاکستان میں مبینہ جعلی کال سینٹر قائم کرکے جعلی انوائسز، چوری شدہ ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ آوازوں کا استعمال کیا گیا۔ پانچوں افراد کو مطلوب قرار دے دیا گیا ہے
امریکا میں محکمہ صحت سے مبینہ طور پر بڑے فراڈ کے معاملے میں پانچ پاکستانی شہریوں کے ملوث ہونے کا الزام سامنے آیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق مبینہ فراڈ کی مالیت 70 کروڑ ڈالر بتائی گئی ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 200 ارب روپے بنتی ہے۔
امریکی محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اس مبینہ فراڈ میں پانچ پاکستانی شہریوں کو مطلوب قرار دیا گیا ہے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق خاتون امریکا سے فرار ہوچکی ہے اور اس کے دبئی یا پاکستان میں موجود ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مبینہ طور پر ان افراد نے پاکستان میں ’ہیلو انٹرنیشنل‘ کے نام سے ایک جعلی کال سینٹر قائم کیا، جہاں سے امریکی محکمہ صحت سے متعلق فراڈ کیا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق ملزمان نے 2023 سے 2025 کے دوران مبینہ طور پر جعلی انوائسز تیار کیں اور امریکی شہریوں کا ذاتی ڈیٹا حاصل کرکے اسے فراڈ کے لیے استعمال کیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے شہریوں کی آوازیں تیار کی گئیں اور شناخت کی تصدیق کے عمل کو دھوکا دینے کی کوشش کی گئی۔
امریکی حکام نے مبینہ فراڈ میں ملوث پانچ پاکستانیوں کے نام موسٹ وانٹڈ فہرست میں شامل کیے ہیں اور ان کے خلاف کارروائی کے لیے مزید اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں
شائع ہوا: 9 ستمبر، 2026 کو 06:00 AM
آخری تدوین: 9 ستمبر، 2026



