اسلام آباد میں انسانی پلیسینٹا کی غیر قانونی پراسیسنگ فیکٹری بے نقاب، 3 چینی سمیت 5 ملزمان گرفتار

ایف آئی اے اسلام آباد زون نے ایف-7 اور ای-11 میں کارروائیاں کرتے ہوئے انسانی پلیسینٹا کی غیر قانونی پراسیسنگ اور بیرون ملک اسمگلنگ میں ملوث مبینہ نیٹ ورک بے نقاب کر دیا۔ 3 چینی اور 2 پاکستانی شہری گرفتار، مقدمہ درج کرکے تحقیقات جاری ہیں۔
اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) اسلام آباد زون نے رات گئے بڑی کارروائی کرتے ہوئے انسانی پلیسینٹا (Human Placenta) کی مبینہ غیر قانونی پراسیسنگ اور بیرون ملک اسمگلنگ میں ملوث ایک نیٹ ورک بے نقاب کر دیا۔ کارروائی کے دوران 3 چینی شہریوں اور 2 پاکستانی شہریوں سمیت مجموعی طور پر 5 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایف آئی اے کے مطابق مصدقہ اطلاع پر سیکٹر ایف-7 میں واقع ایک رہائشی گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں انسانی پلیسینٹا کی غیر قانونی پراسیسنگ اور خشک (ڈرائے) کرنے کے لیے مکمل پلانٹ قائم پایا گیا۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان انسانی پلیسینٹا کو پراسیس کرنے کے بعد "شی پلیسینٹا" (She Placenta) کے نام سے تیار شدہ مصنوعات بیرون ملک، خصوصاً ویتنام، برآمد کرتے تھے۔


ایف آئی اے نے گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی بنیاد پر سیکٹر ای-11 میں واقع ایک اور مقام پر بھی چھاپہ مارا، جہاں اسی نوعیت کا ایک فعال پروسیسنگ سینٹر موجود تھا۔ کارروائی کے دوران پراسیسنگ میں استعمال ہونے والے آلات اور تیار شدہ مال بھی قبضے میں لے لیا گیا۔

ایف آئی اے کے مطابق ملزمان کے خلاف ہیومن آرگنز اینڈ ٹشوز ٹرانسپلانٹیشن ایکٹ 2010 (HOTA) کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ نیٹ ورک کے دیگر ممکنہ ارکان اور اس کی بین الاقوامی سرگرمیوں سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران اسمگلنگ کے طریقہ کار، سپلائی چین اور بیرون ملک روابط سمیت تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 26 جون، 2026 کو 03:12 AM
آخری تدوین: 26 جون، 2026



