پاکستان کا سلامتی کونسل میں مطالبہ: اسرائیلی آبادکاری فوری بند، فلسطینی اتھارٹی کی رقوم جاری کی جائیں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اسرائیلی آبادکاری فوری بند کرنے، فلسطینی اتھارٹی کی روکی گئی رقوم جاری کرنے اور غزہ میں مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کیا
(نیویارک)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ اور مسئلہ فلسطین پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے اسرائیلی آبادکاری سرگرمیوں کے فوری خاتمے اور فلسطینی اتھارٹی کی روکی گئی مالی رقوم جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔
عاصم افتخار احمد نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی صورتحال مسلسل بگڑ رہی ہے، جہاں بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ ان کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری اور تشدد کی کارروائیاں اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ای ون منصوبہ فلسطینی ریاست کے جغرافیائی تسلسل کے لیے سنگین خطرہ ہے، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کی مالی رقوم کی بندش حکومتی نظام کو مفلوج کرنے کی کوشش کے مترادف ہے۔
پاکستان کے مستقل مندوب نے غزہ کی انسانی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 90 فیصد سے زائد آبادی شدید انسانی بحران کا شکار ہے۔ ان کے مطابق جنگ بندی کے باوجود خواتین اور بچوں سمیت 981 فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں، جبکہ فلسطینی بچوں سے متعلق کمیشن آف انکوائری کی حالیہ رپورٹ انتہائی تشویشناک ہے۔
عاصم افتخار احمد نے مطالبہ کیا کہ تمام اسرائیلی آبادکاری سرگرمیاں فوری اور مکمل طور پر بند کی جائیں، زمینوں کے الحاق، مکانات کی مسماری اور جبری بے دخلی کے تمام اقدامات روکے جائیں، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کی روکی گئی رقوم فوری طور پر جاری کی جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں فوری، مستقل اور مکمل جنگ بندی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر ایک آزاد، خودمختار اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں پائیدار امن کی واحد ضمانت ہے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 30 جون، 2026 کو 04:52 AM
آخری تدوین: 30 جون، 2026



