امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی تاریخی مسودۂ معاہدہ منظرعام پرآگیا

امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی تاریخی عبوری معاہدے کا مسودہ منظرِ عام پر آ گیا ہے، جس پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط متوقع ہیں۔ مجوزہ معاہدے میں فوری اور مستقل جنگ بندی، ایران پر عائد پابندیوں کے مرحلہ وار خاتمے، آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی مکمل بحالی اور ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے اقتصادی ترقیاتی پیکج کی تجاویز شامل ہیں۔
اس عبوری معاہدہ پر جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے,ایران کے ساتھ جنگ بندی، پابندیوں کے خاتمے اور ایران کیلئے 300 ارب ڈالر کے اقتصادی پیکج کی تجویز-
مجوزہ معاہدہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے جاری کر دیا
اس معاہدے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈیجیٹل دستخط کر چکے ہیں۔
14 نکاتی مسودہ
1۔ فوری اور مستقل جنگ بندی
امریکہ، ایران اور ان کے اتحادی جنگ کے تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی کا اعلان کریں گے اور ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے۔
2۔ خودمختاری کا احترام
دونوں ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کا عہد کریں گے۔
3۔ 60 دن میں حتمی معاہدہ
فریقین 60 دن کے اندر جامع اور حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی دی جا سکے گی۔
4۔ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی بحالی
ایران معاہدے پر دستخط کے بعد فوری اقدامات کرے گا تاکہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت 30 دن کے اندر جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو سکے۔
5۔ بارودی سرنگوں اور تکنیکی رکاوٹوں کا خاتمہ
ایران سمندری راستوں میں موجود بارودی سرنگوں کو ناکارہ بنانے اور دیگر تکنیکی رکاوٹیں دور کرنے کا پابند ہوگا تاکہ بحری تجارت مکمل طور پر بحال ہو سکے۔
6۔ 300 ارب ڈالر کا اقتصادی ترقیاتی منصوبہ
امریکہ اور اس کے علاقائی شراکت دار ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے مالیاتی پیکیج پر مشتمل منصوبہ تیار کریں گے، جس کا طریقۂ کار 60 دن میں طے کیا جائے گا۔
7۔ پابندیوں کے خاتمے کا وعدہ
امریکہ ایران پر عائد تمام اقسام کی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) اور یکطرفہ امریکی پابندیاں شامل ہیں۔
8۔ ایران کا جوہری ہتھیار نہ بنانے کا اعادہ
ایران نے دوبارہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ ساتھ ہی افزودہ یورینیم اور دیگر جوہری معاملات کا فیصلہ حتمی معاہدے میں کیا جائے گا۔
9۔ موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق
حتمی معاہدے تک ایران اپنے موجودہ جوہری پروگرام میں توسیع نہیں کرے گا جبکہ امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا۔
10۔ ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل برآمدات کی اجازت
امریکی محکمہ خزانہ فوری طور پر ایسے استثنیٰ جاری کرے گا جس کے تحت ایران خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلق خدمات برآمد کر سکے گا۔
11۔ منجمد ایرانی اثاثوں کی رہائی
مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ ایران کے منجمد یا محدود مالیاتی اثاثے اور فنڈز مرحلہ وار جاری کیے جائیں گے اور ایران کو ان کے استعمال کی مکمل اجازت ہوگی۔
12۔ نگرانی کا مشترکہ نظام
معاہدے پر عمل درآمد اور مستقبل میں اس کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے ایک مشترکہ نگرانی کا طریقۂ کار قائم کیا جائے گا۔
13۔ حتمی مذاکرات کا آغاز
معاہدے کی بعض اہم شقوں پر عملی پیش رفت کے بعد دونوں ممالک باقی نکات پر حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔
14۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری
حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی قانونی حیثیت دی جائے گی۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 17 جون، 2026 کو 02:41 PM
آخری تدوین: 17 جون، 2026



