امریکی محکمہ انصاف گوتم اڈانی کے خلاف مقدمات ختم کرنے کے قریب ؟

اڈانی کے وکیل رابرٹ جیوفرا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے محکمہ انصاف کو پیش کی گئی ایک تفصیلی دستاویز میں مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ کمزور اور قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہے
( واشنگٹن / رائٹرز ) بھارتی ارب پتی کاروباری شخصیت گوتم اڈانی کے خلاف امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے دائر فوجداری فراڈ مقدمات ختم کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی حکام اس معاملے پر حتمی غور کر رہے ہیں جبکہ اڈانی گروپ نے اس پیش رفت پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق اڈانی، جو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، نے حال ہی میں امریکی معیشت میں 10 ارب ڈالر سرمایہ کاری اور 15 ہزار ملازمتیں پیدا کرنے کا وعدہ کیا تھا

اڈانی کے وکیل رابرٹ جیوفرا، جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذاتی وکیل بھی ہیں، نے محکمہ انصاف کو پیش کی گئی ایک تفصیلی دستاویز میں مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ کمزور اور قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
دوسری جانب امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے سول فراڈ مقدمے میں بھی اڈانی نے تقریباً 15 ملین ڈالر کی ادائیگی پر تصفیہ کر لیا ہے، تاہم انہوں نے کسی قسم کی غلطی تسلیم نہیں کی۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق یہ معاہدہ عدالت کی منظوری سے مشروط ہے۔
امریکی پراسیکیوٹرز نے نومبر 2024 میں الزام عائد کیا تھا کہ گوتم اڈانی نے بھارت میں شمسی توانائی کے ایک بڑے منصوبے کی منظوری حاصل کرنے کیلئے تقریباً 265 ملین ڈالر رشوت دینے کی اسکیم میں کردار ادا کیا۔ استغاثہ کے مطابق اس مبینہ کرپشن کو چھپا کر اڈانی گروپ نے قرضوں اور بانڈز کی مد میں 3 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ حاصل کیا۔
اڈانی گروپ نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اڈانی گروپ امریکی محکمہ خزانہ کے ساتھ ایرانی گیس کی شپنگ سے متعلق ایک علیحدہ تحقیقات میں 275 ملین ڈالر کی ادائیگی پر بھی آمادہ ہو گیا ہے۔
63 سالہ گوتم اڈانی کو دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے اور فوربز کے مطابق ان کی مجموعی دولت 82 ارب ڈالر سے زائد ہے
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 15 مئی، 2026 کو 04:32 AM
آخری تدوین: 15 مئی، 2026



