وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ایران کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان

W
Web Desk
11 جون، 2026
 ایران کا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملے کا دعویٰ، آبنائے ہرمز بند کرنے کا اعلان
international seerat conference

امریکی حملوں کے بعد ایران نے بحرین، کویت اور اردن میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ آبنائے ہرمز کی مکمل بندش کا اعلان بھی کیا گیا۔ خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

(تہران) ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کی جانب سے ایرانی علاقوں پر تازہ حملوں کے بعد اس نے بحرین، کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق امریکی حملوں کے بعد تہران کے مہر آباد ایئرپورٹ، کرج، ابیق اور قزوین میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے بعد ازاں ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے نئے مرحلے کے خاتمے کا اعلان کیا۔

ایران نے جوابی کارروائی میں بحرین میں موجود امریکی پانچویں بحری بیڑے کے اڈے اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات سمیت 18 مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں امریکی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

دوسری جانب کویت کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر ملک کی فضائی حدود عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکام کے مطابق پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب منتقل کیا جائے گا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے 12 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اردن میں واقع الأزرق ایئر بیس اور کنٹرول سینٹر کو نشانہ بنایا۔ بیان کے مطابق امریکی فوج کے جدید جنگی طیاروں، جن میں F-35، F-15 اور F-16 شامل ہیں، کو بھی ہدف بنایا گیا۔

پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد امریکی فوجی تنصیبات اور آپریشنل ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔ تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے ممکنہ سیکیورٹی خطرات کے پیش نظر شہریوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔

ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون حملے بھی کیے گئے، جن میں امریکی فضائی دفاعی نظام پیٹریاٹ کے ریڈار اور کمیونیکیشن اینٹینا کو نشانہ بنایا گیا۔

واضح رہے کہ امریکا گزشتہ چند روز کے دوران ایران کے مختلف فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر حملے کر چکا ہے۔ ایران نے متعدد بار خبردار کیا تھا کہ وہ امریکی کارروائیوں کا بھرپور جواب دے گا اور دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ایران کی درخواست پر حملے روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم تہران نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ایران کے سخت ردعمل کے بعد اپنی کارروائیاں روکنے پر مجبور ہوا۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پر عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے اور مختلف ممالک حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

international seerat conference
شیئر کریں:
W
Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 11 جون، 2026 کو 06:49 AM

آخری تدوین: 11 جون، 2026

متعلقہ مضامین

امریکا کی ایرانی اعلیٰ حکام کو جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے ویزے جاری کرنے کی منظوری
امریکا

امریکا کی ایرانی اعلیٰ حکام کو جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے ویزے جاری کرنے کی منظوری

امریکا نے ایرانی اعلیٰ حکام کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ویزے جاری کرنے کی منظوری دے دی۔ ایرانی وفد امریکا کا سفر کرسکے گا تاہم سفری پابندیاں برقرار رہیں گی اور امریکی پالیسی کے تحت وفد کو لگژری و دیگر اشیا کی خریداری کی اجازت نہیں ہوگی

Web Desk18 ستمبر، 2026
امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو 14 ماہ قید
تازہ ترین

امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے شخص کو 14 ماہ قید

امریکی رکن کانگریس الہان عمر پر سرکہ پھینکنے والے انتھونی جیمز کازمیرزک کو ایک سال دو ماہ قید کی سزا سنا دی گئی۔ ملزم نے مئی میں جرم قبول کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ اس نے الہان عمر کے سیاسی خیالات سے اختلاف کی وجہ سے انہیں نشانہ بنایا۔ عدالت میں ملزم نے معذرت بھی کی

Web Desk18 ستمبر، 2026
امریکا کی سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری
تازہ ترین

امریکا کی سعودی عرب کو 48 جدید ایف 35 جنگی طیارے فروخت کرنے کی منظوری

امریکی محکمہ خارجہ نے سعودی عرب کو 48 ایف 35 سٹیلتھ جنگی طیاروں کی فروخت کی منظوری دے دی۔ 24.3 ارب ڈالر کے مجوزہ معاہدے میں 49 پراٹ اینڈ وٹنی انجن، مواصلاتی آلات، پرزہ جات اور دیگر دفاعی سامان بھی شامل ہے۔ امریکا کے مطابق اس معاہدے سے سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور امریکی افواج کے ساتھ باہمی تعاون میں اضافہ ہوگا

Web Desk18 ستمبر، 2026