وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

ٹرمپ کی 2026 مڈٹرم مہم تیز، ٹیکساس میں ریپبلکن پارٹی شدید اختلافات کا شکار

W
Web Desk
21 مئی، 2026
ٹرمپ کی 2026 مڈٹرم مہم تیز، ٹیکساس میں ریپبلکن پارٹی شدید اختلافات کا شکار

ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 مڈٹرم انتخابات کے لیے ٹیکساس میں کین پیکسٹن کی حمایت کر دی، جس کے بعد ریپبلکن پارٹی میں اختلافات شدت اختیار کر گئے

(واشنگٹن/خصوصی رپورٹ) ڈونلڈ ٹرمپ نے 2026 کے مڈٹرم انتخابات کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیاں تیز کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں امریکی ریاست Texas میں ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔ ٹرمپ کیمپ مختلف اہم ریاستوں میں اپنے حامی امیدواروں کی بھرپور حمایت کر رہا ہے، جبکہ پارٹی کے روایتی رہنماؤں اور “MAGA” دھڑے کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

ٹیکساس میں بڑا سیاسی معرکہ

ٹیکساس کی سینیٹ دوڑ اس وقت امریکی سیاست کا اہم ترین موضوع بن چکی ہے۔ سابق صدر ٹرمپ نے موجودہ سینیٹر John Cornyn کے بجائے ٹیکساس کے اٹارنی جنرل کین پیکسٹن کی کھل کر حمایت کر دی ہے، جس کے بعد ریپبلکن پارٹی واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم دکھائی دے رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مقابلہ صرف دو امیدواروں کے درمیان نہیں بلکہ “MAGA” تحریک اور روایتی ریپبلکن اسٹیبلشمنٹ کے درمیان طاقت کی جنگ بن چکا ہے۔

ٹرمپ کی حمایت نے پارٹی میں بے چینی بڑھا دی

ریپبلکن رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ کین پیکسٹن کے خلاف ماضی کے قانونی تنازعات اور سیاسی اسکینڈلز عام انتخابات میں پارٹی کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔ بعض رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے سے ڈیموکریٹس کو ٹیکساس جیسی مضبوط ریپبلکن ریاست میں بھی سیاسی فائدہ مل سکتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ٹرمپ اب ان ریپبلکن شخصیات کے خلاف بھی مہم چلا رہے ہیں جنہیں وہ “غیر وفادار” تصور کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے امریکی میڈیا 2026 کے انتخابات کو “ٹرمپ بمقابلہ ریپبلکن اسٹیبلشمنٹ” قرار دے رہا ہے۔

ڈیموکریٹس کی نظریں ٹیکساس پر

ڈیموکریٹ امیدوار جیمز ٹالاریکو اس اندرونی تقسیم سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض حالیہ سرویز میں ان کی پوزیشن مضبوط دکھائی دے رہی ہے، جس سے ریپبلکن قیادت میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق 2026 کے مڈٹرم انتخابات نہ صرف کانگریس کے مستقبل بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاسی طاقت اور ریپبلکن پارٹی پر ان کے اثر و رسوخ کا بھی بڑا امتحان ثابت ہوں گے۔

شیئر کریں:
W

Web Desk

Media Channel

شائع ہوا: 21 مئی، 2026 کو 03:25 PM

آخری تدوین: 21 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

ایران پر مزید حملوں کی صورت میں 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی سخت وارننگ
امریکا

ایران پر مزید حملوں کی صورت میں 20 گنا زیادہ طاقت سے جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی سخت وارننگ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر مزید حملے کیے گئے تو امریکا ہر حملے کے جواب میں 20 گنا زیادہ طاقت سے کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے ایران کے ممکنہ معاہدے، فوجی صورتحال اور خطے میں کشیدگی پر بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا

Web Desk9 جولائی، 2026
ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم، مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا: ٹرمپ
امریکا

ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم، مزید وقت ضائع نہیں کرنا چاہتا، اب ہمیں اپنا کام کرنا ہوگا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو چکی ہے اور وہ مزید مذاکرات نہیں کرنا چاہتے۔ انقرہ میں نیٹو چیف کے ہمراہ گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیٹو پر تنقید، ایران کے جوہری پروگرام، امریکی فوجی کارروائی، اسپین کے ساتھ تجارتی تعلقات، گرین لینڈ اور پاناما کینال سے متعلق بھی اہم بیانات دیے۔ مکمل خبر پڑھیں۔

Web Desk8 جولائی، 2026
امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایران پر طاقتور حملوں کا اعلان، آبنائے ہرمز کے واقعے کو وجہ قرار دے دیا
تازہ ترین

امریکی سینٹرل کمانڈ کا ایران پر طاقتور حملوں کا اعلان، آبنائے ہرمز کے واقعے کو وجہ قرار دے دیا

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف طاقتور حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ سینٹ کام کے مطابق یہ کارروائیاں آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ایران کے مبینہ حملوں کے جواب میں کی جا رہی ہیں

Web Desk8 جولائی، 2026