وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

پاکستان کا دعویٰ: امریکا اور ایران امن معاہدے کے حتمی مسودے پر متفق، باضابطہ دستخط جلد متوقع

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر
13 جون، 2026
پاکستان کا دعویٰ: امریکا اور ایران امن معاہدے کے حتمی مسودے پر متفق، باضابطہ دستخط جلد متوقع

شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم تصدیق کر سکتے ہیں کہ امن معاہدے کا ایک حتمی اور باہمی طور پر منظور شدہ متن تیار ہو چکا ہے، انہوں نے مزید کہا، "امن کبھی اتنا قریب نہیں تھا جتنا آج ہے۔"

( واشنگٹن ) پاکستان نے جمعہ کے روز تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے اور دونوں ممالک ایک "متفقہ حتمی متن" پر اتفاق کر چکے ہیں، جو طویل عرصے سے جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ اعلان اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق ایک معاہدہ طے پا گیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان، جو مذاکرات میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اب امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے باقی ماندہ اقدامات کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے

انہوں نے کہا کہ اسلام آباد مسلسل واشنگٹن اور تہران کے ساتھ رابطے میں ہے اور معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تیاریوں کو مکمل کرنے کے لیے دونوں فریقین کے ساتھ قریبی تعاون کر رہا ہے۔

شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا، "تمام قیاس آرائیوں اور افواہوں سے ہٹ کر ہم اس بات کی تصدیق کر سکتے ہیں کہ امن معاہدے کا ایک حتمی اور باہمی طور پر منظور شدہ متن تیار ہو چکا ہے، اور پاکستان اب دونوں فریقین کے ساتھ مل کر اگلے مراحل کو حتمی شکل دے رہا ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "امن کبھی اتنا قریب نہیں تھا جتنا آج ہے۔"

وزیراعظم کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب جمعہ کو تہران سے آنے والے متضاد بیانات نے معاہدے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے ایرانی حکام کے بعض بیانات پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ تہران متعدد ممالک کے ساتھ طے شدہ امور سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بعد ازاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ "کبھی بھی اس قدر قریب نہیں تھا" اور میڈیا سے اپیل کی کہ وہ معاہدے کی تفصیلات کے بارے میں قیاس آرائیوں سے گریز کرے

صدر ٹرمپ نے بعد میں عراقیچی کے بیان کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کیا، جسے مذاکرات کے حوالے سے محتاط امید کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

ادھر امریکی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان ابھرنے والے معاہدے پر آئندہ چند روز میں یورپ میں باضابطہ دستخط متوقع ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے کلیدی ثالثی کردار کے اعتراف میں اس معاہدے کو ممکنہ طور پر "اسلام آباد معاہدہ" کا نام دیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذاکرات میں پاکستان کی پس پردہ سفارتی کوششوں کو واشنگٹن اور تہران دونوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بھی جمعرات کو معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستانی قیادت کی سفارتی کاوشوں کو سراہا اور امن عمل کو آگے بڑھانے میں اسلام آباد کے کردار کی تعریف کی تھی۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 13 جون، 2026 کو 12:15 AM

آخری تدوین: 13 جون، 2026

متعلقہ مضامین

ایران جنگ کے بعد امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، پینٹاگون نے ہنگامی فنڈز مانگ لیے: امریکی میڈیا
تازہ ترین

ایران جنگ کے بعد امریکی میزائل ذخائر میں نمایاں کمی، پینٹاگون نے ہنگامی فنڈز مانگ لیے: امریکی میڈیا

امریکی میڈیا کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے دوران امریکا کے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ذخائر میں نمایاں کمی آئی ہے۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق پینٹاگون نے دفاعی صلاحیت بحال کرنے کے لیے اربوں ڈالر کے ہنگامی فنڈز کی درخواست کر دی ہے

Web Desk1 اگست، 2026
ایران پر بھرپور حملوں کی تیاری، ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے: صدر ٹرمپ
امریکا

ایران پر بھرپور حملوں کی تیاری، ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیں گے: صدر ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران پر بھرپور فوجی حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنا اور اسے جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے

Web Desk1 اگست، 2026
امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
تازہ ترین

امریکا نے چین، بھارت، روس اور ایران کے اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکا نے ایران سے متعلق نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چین، بھارت، روس اور ایران کے متعدد اداروں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ ٹریول، لاجسٹکس، کارگو اور دیگر کمپنیوں پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں

Web Desk31 جولائی، 2026