وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

وائٹ ہاؤس کے متنازع “ٹرمپ بال روم” منصوبے پر بڑا سیاسی تنازع

وائٹ ہاؤس کے متنازع “ٹرمپ بال روم” منصوبے پر بڑا سیاسی تنازع

امریکی سینیٹ پارلیمنٹرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے کے لیے تقریباً 1 بلین ڈالر سیکیورٹی فنڈنگ کو بجٹ قوانین کے خلاف قرار دے دیا، جس کے بعد منصوبے کو سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔

( واشنگٹن ڈی سی )امریکی سینیٹ میں امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ “وائٹ ہاؤس بال روم” منصوبے کو بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ سینیٹ پارلیمنٹرین نے منصوبے کے لیے مختص تقریباً 1 بلین ڈالر کی سیکیورٹی فنڈنگ کو بجٹ قوانین کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ ایک جدید، انتہائی محفوظ اور وسیع 90 ہزار اسکوائر فٹ بال روم پر مشتمل ہے، جس کی مجموعی لاگت تقریباً 400 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عمارت کی اصل تعمیر نجی عطیات کے ذریعے کی جا رہی ہے، تاہم اس کے جدید سیکیورٹی نظام کے لیے سرکاری فنڈز طلب کیے گئے تھے۔

منصوبے میں جدید سیکیورٹی انفراسٹرکچر شامل کیا گیا ہے، جس میں ڈرون پروٹیکشن سسٹم، زیرِ زمین بنکر، فوجی طبی سہولت، بکتر بند چھت اور دیواریں، اور خصوصی سیکیورٹی کوریڈورز شامل ہیں۔

سینیٹ پارلیمنٹرین کا اعتراض

امریکی سینیٹ کی پارلیمنٹرین الزبتھ میکڈونا نے فیصلہ دیا کہ اس منصوبے کی فنڈنگ کو “امیگریشن اور سیکیورٹی بجٹ” کے تحت شامل کرنا سینیٹ قواعد کے مطابق نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب اس فنڈنگ کی منظوری سادہ اکثریت سے ممکن نہیں رہے گی بلکہ مکمل سینیٹ ووٹنگ اور اضافی منظوریوں کی ضرورت ہوگی۔

ریپبلکن رہنماؤں کی کوششیں

امریکی ریپبلکن کے کئی رہنما اس منصوبے کو بچانے کے لیے نئی قانون سازی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بڑے سرکاری ایونٹس، سفارتی تقریبات اور جدید سیکیورٹی تقاضوں کے لیے یہ منصوبہ ناگزیر ہے۔

عوامی اور قانونی مخالفت

دوسری جانب امریکا میں اس منصوبے پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں ٹیکس دہندگان کا پیسہ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ تاریخی وائٹ ہاؤس کے “ایسٹ ونگ” کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

قومی تاریخی تحفظ کی مختلف تنظیموں نے منصوبے کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔ بعض امریکی ججز نے ماضی میں تعمیراتی کام عارضی طور پر روکنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے، جس کے باعث منصوبہ مسلسل قانونی اور سیاسی تنازعات کا شکار ہے۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 20 مئی، 2026 کو 02:23 PM

آخری تدوین: 20 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی اشتہارات پر پابندی کا حکم
امریکا

امریکی عدالت کا ٹرمپ انتظامیہ کے سیاسی اشتہارات پر پابندی کا حکم

امریکی وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے متنازع سرکاری اشتہارات تیار اور نشر کرنے سے دو ہفتوں کے لیے روک دیا۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں آیا

محمد نعیم اختر12 اکتوبر، 2026
ٹرمپ انتظامیہ کی پانچ بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات
تازہ ترین

ٹرمپ انتظامیہ کی پانچ بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس کے خلاف تحقیقات

امریکی محکمۂ انصاف نے ABC، CBS، CNN، NBC اور فاکس نیوز کے خلاف مبینہ طور پر مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی کی تحقیقات شروع کر دیں۔ معاملے نے امریکا میں آزادیٔ صحافت، حکومتی احتساب اور آئینی حقوق سے متعلق نئی بحث چھیڑ دی

محمد نعیم اختر11 اکتوبر، 2026
سعودی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی میں ساتھ دینے کا عندیہ
امریکا

سعودی ایئرپورٹ پر حملے کے بعد ٹرمپ کا حوثیوں کے خلاف کارروائی میں ساتھ دینے کا عندیہ

سعودی عرب کے کنگ خالد ایئرپورٹ پر حملے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کے خلاف کارروائی میں سعودی عرب کا ساتھ دینے کا اشارہ دے دیا۔ ایران پر ممکنہ حملوں سے متعلق بھی اہم بیان سامنے آگیا

Web Desk11 اکتوبر، 2026