وائسز آف امریکا
تازہ خبریں
امریکا

وائٹ ہاؤس کے متنازع “ٹرمپ بال روم” منصوبے پر بڑا سیاسی تنازع

محمد نعیم اخترمحمد نعیم اختر
20 مئی، 2026
وائٹ ہاؤس کے متنازع “ٹرمپ بال روم” منصوبے پر بڑا سیاسی تنازع

امریکی سینیٹ پارلیمنٹرین نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ وائٹ ہاؤس بال روم منصوبے کے لیے تقریباً 1 بلین ڈالر سیکیورٹی فنڈنگ کو بجٹ قوانین کے خلاف قرار دے دیا، جس کے بعد منصوبے کو سیاسی اور قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔

( واشنگٹن ڈی سی )امریکی سینیٹ میں امریکی صدر ٹرمپ کے مجوزہ “وائٹ ہاؤس بال روم” منصوبے کو بڑا دھچکا لگا ہے، کیونکہ سینیٹ پارلیمنٹرین نے منصوبے کے لیے مختص تقریباً 1 بلین ڈالر کی سیکیورٹی فنڈنگ کو بجٹ قوانین کے خلاف قرار دے دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ ایک جدید، انتہائی محفوظ اور وسیع 90 ہزار اسکوائر فٹ بال روم پر مشتمل ہے، جس کی مجموعی لاگت تقریباً 400 ملین ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ عمارت کی اصل تعمیر نجی عطیات کے ذریعے کی جا رہی ہے، تاہم اس کے جدید سیکیورٹی نظام کے لیے سرکاری فنڈز طلب کیے گئے تھے۔

منصوبے میں جدید سیکیورٹی انفراسٹرکچر شامل کیا گیا ہے، جس میں ڈرون پروٹیکشن سسٹم، زیرِ زمین بنکر، فوجی طبی سہولت، بکتر بند چھت اور دیواریں، اور خصوصی سیکیورٹی کوریڈورز شامل ہیں۔

سینیٹ پارلیمنٹرین کا اعتراض

امریکی سینیٹ کی پارلیمنٹرین الزبتھ میکڈونا نے فیصلہ دیا کہ اس منصوبے کی فنڈنگ کو “امیگریشن اور سیکیورٹی بجٹ” کے تحت شامل کرنا سینیٹ قواعد کے مطابق نہیں ہے۔ اس فیصلے کے بعد اب اس فنڈنگ کی منظوری سادہ اکثریت سے ممکن نہیں رہے گی بلکہ مکمل سینیٹ ووٹنگ اور اضافی منظوریوں کی ضرورت ہوگی۔

ریپبلکن رہنماؤں کی کوششیں

امریکی ریپبلکن کے کئی رہنما اس منصوبے کو بچانے کے لیے نئی قانون سازی لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ وائٹ ہاؤس میں بڑے سرکاری ایونٹس، سفارتی تقریبات اور جدید سیکیورٹی تقاضوں کے لیے یہ منصوبہ ناگزیر ہے۔

عوامی اور قانونی مخالفت

دوسری جانب امریکا میں اس منصوبے پر شدید تنقید بھی کی جا رہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے میں ٹیکس دہندگان کا پیسہ استعمال کیا جا رہا ہے، جبکہ تاریخی وائٹ ہاؤس کے “ایسٹ ونگ” کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

قومی تاریخی تحفظ کی مختلف تنظیموں نے منصوبے کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کر رکھے ہیں۔ بعض امریکی ججز نے ماضی میں تعمیراتی کام عارضی طور پر روکنے کے احکامات بھی جاری کیے تھے، جس کے باعث منصوبہ مسلسل قانونی اور سیاسی تنازعات کا شکار ہے۔

شیئر کریں:
محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر

محمد نعیم اختر، واشنگٹن ڈی سی میں وائسز آف امریکا کیلئے بطور بیوروچیف فرائض انجام دے رہے ہیں

شائع ہوا: 20 مئی، 2026 کو 02:23 PM

آخری تدوین: 20 مئی، 2026

متعلقہ مضامین

فلسطین پر پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، اسحاق ڈار
امریکا

فلسطین پر پاکستان کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آسکتی، اسحاق ڈار

اسرائیل کو پہلے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت کرنا ہوگی، اس کے بعد ہی تعلقات معمول پر لانے سے متعلق کسی قسم کی بات ہوسکتی ہے

محمد نعیم اختر29 مئی، 2026
ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ختم کر دی، ایرانی نیوکلیئر مواد نکالنے کا اعلان
امریکا

ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ختم کر دی، ایرانی نیوکلیئر مواد نکالنے کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی امریکی ناکہ بندی ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کبھی ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکے گا۔ ٹرمپ نے ایرانی نیوکلیئر مواد کو زمین سے نکال کر تباہ کرنے کا بھی اعلان کیا

Web Desk29 مئی، 2026
ورجینیا کے چاند رات میلے میں عید کا جوش، میرا، عمران فدا اور ہربی سنگھ کی شرکت
امریکا

ورجینیا کے چاند رات میلے میں عید کا جوش، میرا، عمران فدا اور ہربی سنگھ کی شرکت

امریکہ کی ریاست ورجینیا کے شہر مناسس میں منعقدہ چاند رات میلے میں پاکستانی، بھارتی اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ میرا، عمران فدا اور ہربی سنگھ کی پرفارمنس نے تقریب کو یادگار بنا دیا

محمد نعیم اختر29 مئی، 2026