مولانا فضل الرحمان کی آزاد کشمیر معاملے پر ثالثی کی پیشکش، بلاول نے خیرمقدم کر دیا

جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل مذاکرات سے حل ہونے چاہییں۔ بلاول بھٹو زرداری نے اس پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا
(اسلام آباد) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے آزاد کشمیر کے موجودہ سیاسی معاملے پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل کا حل مذاکرات اور سیاسی عمل میں ہے، نہ کہ طاقت کے استعمال میں۔
وفاقی دارالحکومت میں بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ قومی معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان رابطے جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور بلاول بھٹو کی آمد ایک مثبت پیش رفت ہے۔
انہوں نے آزاد کشمیر میں ایکشن کمیٹی کے دھرنے کے تناظر میں ثالثی کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی بارہ نشستوں سمیت دیگر معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈنڈے یا بندوق سے مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ سیاسی مذاکرات ہی دیرپا حل فراہم کرتے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے چارٹر آف ڈیمانڈ پر بھی مذاکرات ممکن ہیں اور یہ کوئی پیچیدہ معاملہ نہیں۔
اس موقع پر چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی مضبوط اپوزیشن کی حیثیت رکھتی ہے اور سیاسی معاملات میں مولانا فضل الرحمان کے تجربے سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر پارلیمنٹ ہاؤس میں بھی گفتگو ہوئی ہے اور خواہش ہے کہ تمام مسائل کا پائیدار اور آئینی حل نکالا جائے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور جے یو آئی دونوں کو عوامی تحریکوں کا وسیع تجربہ حاصل ہے، اسی لیے حکومت کو تجویز دی گئی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کی ثالثی کی پیشکش سے فائدہ اٹھایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات کا شفاف اور غیر متنازع ہونا انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور جے یو آئی کے درمیان سیاسی تعاون مزید مضبوط ہو رہا ہے اور دونوں جماعتیں ملک بھر میں بھی سیاسی اتحاد کی خواہش رکھتی ہیں۔
بلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ تمام سیاسی قوتوں کو آزاد کشمیر کے عوام کے مسائل کے حل کو اپنی ترجیح بنانا چاہیے۔
Web Desk
Media Channel
شائع ہوا: 1 جولائی، 2026 کو 03:34 AM
آخری تدوین: 1 جولائی، 2026



